جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کےوزیر اعظم منموہن سنگھ نے نائجیریا کے دورے کے دوران امریکی صدر جارج بُش سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امریکہ اور انڈیا کے درمیان جوہری معاہدے کے انعقاد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صحافی سیمہ چشتی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد جاری ہونےوالی پریس سٹیٹمنٹ میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کو کچھ دقتیں پیش آ رہی ہیں اور انہیں ڈیل پر پیش رفت میں کچھ وقت لگے گا۔ سیمہ چشتی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بھارتی حکومت پر بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ اب دوسری جماعتوں کا بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جو امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کے حق میں نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اس بات کا سبھی کو اندازہ تھا کہ اس طرح کے معاہدے میں مشکلات تو پیش آئیں گی، امریکہ میں بھی حکومت کو کانگریس سے ایک بِل منظور کروانا پڑا تھا اور بھارت میں دیکھنا ہے کہ مختلف رائے رکھنی والی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا عمل کس نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکمران جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کہا تھا کہ حکومت کی قیمت پر جوہری معاہدہ نہیں کیا جائےگا۔ نائجیریا میں صحافیوں کا کہنا ہے کہ منموہن سنگھ کی صدر بُش کے ساتھ اس بات چیت کے بعد سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کیا جوہری معاہدہ تعطل کا شکار تو نہیں ہو جائے گا۔ منموہن سنگھ اور جارج بُش نے عالمی تجارتی معاہدے کے بارے میں بھی بات چیت کی۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ پر اختلاف گہرے18 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بائیں محاذ کا اجلاس 17 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ اور سیاسی کشمکش 11 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ:بی جے پی ناراض04 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||