روس نے جوہری معاہدے پر دستخط کیوں نہیں کیے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ روس کے ایک روزہ دورے پر تھے۔ ان کے اس دورے پر ہندوستان میں چار جوہری ری ایکٹرروں کی تعمیر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جانے تھے لیکن کسی وجہ سے یہ معاہدہ زير غور نہیں آسکا۔ ہندوستان کی حکومت نے اگرچہ اس پر کوئی تبصرہ نہيں کیا ہے لیکن روس اور ہندوستان کے بعض مبصرین نے معاہدے پر دستخط نہ ہونے کا سبب ہندوستان کی امریکہ سے بڑھتی قربت بتایا ہے۔ روس نے ہندوستان کو یقین دلایا تھاکہ کوڈن کولن کی تعمیر کا 1988 کا معاہدہ ایک وسیع معاہدہ ہے اور اسی معاہدے کے تحت چار اضافی ری ایکٹروں کی تعیمر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جانے تھے۔ تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق روس نے اس معاہدے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ چند برس قبل تک روس ہندوستان کا سب سے بڑا اسلحہ کا سپلائر تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہيں۔ ایک روسی اخبار لکھتا ہےکہ ’روس ہندوستان کے امریکہ سے بڑ ھتے ہوئے تعلقات سے خوش نہيں ہے۔‘ ہندوستانی تجزيہ کاروں کا خیال ہے کہ ہند-امریکہ جوہری معاہدہ اور ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بڑ ھتے ہوئے دفاعی تعلقات ہی روس کی ناراضگی کا سبب بنے ہیں۔ اس کا اشارہ اس وقت ملا تھا جب حال میں ہندو ستان کے وزیر خارجہ اور وزير دفاع کے ماسکو کے دوروں پر روس کے صدر ولادمیر پوتن نے دونوں اعلی رہنماؤں سے ملاقات نہيں کی۔ لیکن وزیر اعظم کے ساتھ ماسکو جانے والے ہندوستانی تجزيہ کار ونود شرما کہتے ہیں کہ معاہدہ ایجنڈے میں شامل نہيں تھا اور یہ پہلے ہی طے تھا کہ جوہری معاملے پر ہند وستان میں بحث کے پیش نظر اسے التوا میں رکھا جائے۔ وہ کہتے ہیں: ’روس نہيں چاہتا کہ وہ ہندوستان کی مدد کرنے میں نیوکلیئر سپلائر گروپ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرے۔ ہندوستان کا اصل مقصد یہ ہے کہ گلوبل نیوکلیئر نظام اسے تسلیم کرے، اس کی ضرورتوں کو تسلیم کرے اور اسے کسی سے بھی اپنی خریدو فروخت کرنے کی اجازت دے۔‘ ہندوستان میں سرکاری طور پر اس کے بارے میں کـچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ فی الحال حکومت روس سے معاہدے کے بجائے امریکہ سے اپنے جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ آئندہ پندرہ نومبر سے پارلمینٹ کا اجلاس شروع ہورہا ہے اور اس میں ہند امریکہ جوہری معاہدے پر بحث اور ووٹنگ ہونے والی ہے۔ اگر حکومت کو معاہدے کی منظوری مل گئی تو وہ بین لااقوامی جوہری ادارے اور امریکہ سے بات چیت شروع کرسکے گا۔ جوہری معاہدے کے عمل میں آنے سے ہندوستان میں غیرملکی ٹیکنالوجی اور امداد سے مزید ضروری ری ایکٹروں کی تعمیر پر پابندی نہيں ہوگی۔ | اسی بارے میں ’ہند روس تعلقات نئے مرحلے میں‘12 November, 2007 | انڈیا روس، انڈیا: ایٹمی، خلائی معاہدے25 January, 2007 | انڈیا روسی صدر بھارت کے دورے پر25 January, 2007 | انڈیا ہند،روس بڑھتا ہواجوہری اشتراک 17 March, 2006 | انڈیا روس بھارت دفاعی مذاکرات 03 December, 2004 | انڈیا روسی وزیر خارجہ بھارت پہنچ گئے08 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||