روس، انڈیا: ایٹمی، خلائی معاہدے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور روس نے ’خلا کو ہتھیاروں سے پاک‘ رکھنے کی اپیل کی ہے اور انڈیا میں کئی ایٹمی ریئکٹر بنانے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ روس پہلے سے ہی انڈیا کے دو ایٹمی ریئکٹر میں مدد کررہا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نئی دہلی میں ہیں جہاں انہوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ صدر پوتن چھبیس جنوری کو یومِ جمہوریہ تقریبات میں شرکت کے لیے جمعرات کو دہلی پہنچے۔ روسی خبررساں ادارے ایتار تاس کے مطابق نئی دہلی میں منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد صدر پوتن نے کہا کہ ’خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنا‘ ایک اصولی پوزیشن ہے۔ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران منموہن سنگھ نے صدر پوتن کے بیان کی حمایت کی۔ خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا دونوں ملکوں کا بیان اس لیے اہم ہے کہ حال ہی میں چین نے خلا میں اپنے ایک موسمی سیٹلائٹ کو تباہ کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ روس اور ہندوستان نے مشترکہ خلائی منصوبوں پر دستخط کیے جس کے تحت وہ تعلیمی سیٹلائٹ خلا میں بھیجیں گے۔ روسی صدر کے دورے پر دونوں ملکوں کے درمیان توقع ہے کہ دس بلین ڈالر مالیت کے اسلحے اور توانائی کے سمجھوتوں کے معاہدے طے ہوں گے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اسلحہ کی فروخت میں تین سو روسی ٹینک اور سو سے زیادہ لڑاکا طیارے شامل ہونگے۔ فوجی ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز مشترکہ طور پر بنانے کا سمجھوتہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ صدر پوتن جمعہ کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی ہوں گے اور صدر عبدالکلام اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقاتیں کریں گے۔ روس اور انڈیا کے درمیان روایتی طور پر گہرے اور مضبوط روابط رہے ہیں اور بھارت روسی اسلحے کا ایک بڑا خریدار رہا ہے۔ روس اس وقت انڈیا کو ایک سو بیس لڑاکا جہاز فروخت کرنے کے درپے ہے۔ روس کو مغرب کے کچھ ممالک سے شدید مقابلے کا سامنا ہے کہ کہیں انڈیا ان سے خریداری نہ شروع کر دے۔ روس اور انڈیا بڑی تیزی سے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے لیے انڈیا نئی منڈی کا کام دے سکتا ہے۔ روس کے انجینیئر پہلے ہیں انڈیا میں دو ریئکٹر بنا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہند،روس بڑھتا ہواجوہری اشتراک 17 March, 2006 | انڈیا بھارت کو روس کاایٹمی ایندھن15 March, 2006 | انڈیا ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||