روسی صدر بھارت کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر ولادیمیر پوتن دو دن کے دورے پر جمعرات کو دارالحکومت دہلی پہنچ گئے ہیں جہاں توقع ہے کہ دس بلین ڈالر مالیت کے اسلحے اور توانائی کے سمجھوتوں کے معاہدے طے ہوں گے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اسلحہ کی فروخت میں تین سو روسی ٹینک اور سو سے زیادہ لڑاکا طیارے شامل ہونگے۔ فوجی ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز مشترکہ طور پر بنانے کا سمجھوتہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ روس کی جانب سے چار جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کی پیش کش بھی ہے ۔ صدر پوتن جمعہ کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی ہوں گے اور صدر عبدالکلام اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقاتیں کریں گے۔ روس اور انڈیا کے درمیان روایتی طور پر گہرے اور مضبوط روابط رہے ہیں اور بھارت روسی اسلحے کا ایک بڑا خریدار رہا ہے۔ روس اس وقت انڈیا کو ایک سو بیس لڑاکا جہاز فروخت کرنے کے درپے ہے۔ روس کو مغرب کے کچھ ممالک سے شدید مقابلے کا سامنا ہے کہ کہیں انڈیا ان سے خریداری نہ شروع کر دے۔ روس اور انڈیا بڑی تیزی سے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے لیے انڈیا نئی منڈی کا کام دے سکتا ہے۔ روس کے انجینیئر پہلے ہیں انڈیا میں دو ریئکٹر بنا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہند،روس بڑھتا ہواجوہری اشتراک 17 March, 2006 | انڈیا بھارت کو روس کاایٹمی ایندھن15 March, 2006 | انڈیا ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||