BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 January, 2007, 01:37 GMT 06:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روسی صدر بھارت کے دورے پر
انڈیا اور روس کے درمیان تعلقات روایتی طور پر گہرے اور مضبوط رہے ہیں
روسی صدر ولادیمیر پوتن دو دن کے دورے پر جمعرات کو دارالحکومت دہلی پہنچ گئے ہیں جہاں توقع ہے کہ دس بلین ڈالر مالیت کے اسلحے اور توانائی کے سمجھوتوں کے معاہدے طے ہوں گے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اسلحہ کی فروخت میں تین سو روسی ٹینک اور سو سے زیادہ لڑاکا طیارے شامل ہونگے۔

فوجی ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز مشترکہ طور پر بنانے کا سمجھوتہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ روس کی جانب سے چار جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کی پیش کش بھی ہے ۔

صدر پوتن جمعہ کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی ہوں گے اور صدر عبدالکلام اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقاتیں کریں گے۔

روس اور انڈیا کے درمیان روایتی طور پر گہرے اور مضبوط روابط رہے ہیں اور بھارت روسی اسلحے کا ایک بڑا خریدار رہا ہے۔

روس اس وقت انڈیا کو ایک سو بیس لڑاکا جہاز فروخت کرنے کے درپے ہے۔ روس کو مغرب کے کچھ ممالک سے شدید مقابلے کا سامنا ہے کہ کہیں انڈیا ان سے خریداری نہ شروع کر دے۔

روس اور انڈیا بڑی تیزی سے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ سویلین جوہری ٹیکنالوجی کے لیے انڈیا نئی منڈی کا کام دے سکتا ہے۔ روس کے انجینیئر پہلے ہیں انڈیا میں دو ریئکٹر بنا رہے ہیں۔

جوہری پروگرامایران ایٹمی تنازعہ
بھارت میں رائے جدا جدا
نیوکلیئر پروگرامایٹمی تنہائی کاخاتمہ
امریکہ نےانڈیا کوجوہری طاقت مان لیا
بھارت کا جوہری پروگرام بھارتی ایٹمی پروگرام
فوجی مقاصد کیلیے دو ری ایکٹر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد