BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 November, 2007, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدے پر اہم مذاکرات

جوہری معاہدے کے مخالف
جوہری معاہدے پر بائیں بازوں کی جماعتوں کو بعض اعتراضات ہیں
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اگلے مرحلے کی مذاکرات کے لیے ہندوستانی حکومت اقوام متحدہ کے نگراں ایٹمی ادارے آئي اے ای اے سے بات چيت کر رہی ہے۔

یہ مذاکرات آئی اے ای اے کے صدر دفتر ویانا میں ہو رہے ہیں۔ آئی اے ای اے سے بات چیت میں ہندوستان کی نمائندگی اٹامک انرجی کمیشن کے چئرمین انل کاکوڈ کر رہے ہیں۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے آئی اے ای اے سے بات چیت لازمی ہے اور یہ معاہدے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔

ہندوستان میں بائیں بازوں کی جماعتیں ہند امریکہ جوہری معاہدے کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط ہیں جن سے ملک کی خارجہ پالیسی پر امریکہ اثر انداز ہوسکتا ہے۔

گزشتہ دو مہنیوں میں حکمراں کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان معاہدے پر اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہوئے جس کے بعد گزشتہ پیر کو بائیں بازو کی جماعتیں آئي اے ای اے سے بات چیت کے لیے آمادہ ہوگئي ہیں۔ تاہم بائیں بازو کی جماعتوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آئی اے ای اے سے بات چیت کے بعد بھی معاہدے کو مسترد کر سکتی ہیں۔

بدھ کے روز ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں تکنیکی پہلو پر بات چیت کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہو جائےگي کہ معاہدے کے تحت کس پر کیا شرائط عائد ہوئی ہیں۔

بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ معاہدے سےامریکی جوہری ٹیکنالوجی تک ہندوستان کی رسائی کا جو فائدہ ہوگا اس کی بہت مہنگی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے کہ امریکہ جب چاہے تب ہندوستان کے لیے نیوکلیئر سپلائی بند کرسکتا ہے۔ اور ہندوستان اگر کوئی جوہری تجربہ کرتا ہے تو امریکہ معاہدہ اسی وقت معطل کر سکتا ہے۔

بائیں بازو کی جماعتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان پر ایسی کوئی بھی پابندی نہیں اس لیے یہ معاہدہ ہندوستان کو جوہری تجربے کے لحاظ سے کمزور کرتا ہے۔

ہند امریکہ جوہری معاہدہ پر عملدرآمد میں ہندوستان کی داخلی سیاست اور اختلافات کے سبب پہلے ہی دیر ہو چکی ہے اور اگر وزیراعظم منموہن سنگھ کو پارلیمنٹ میں معاہدے کے لیے منظوری مل بھی جائے تو ان کے پاس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے وقت بہت کم ہے۔

حتمی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکی کانگریس کو بھی منظوری دینی باقی ہے۔ اس برس امریکہ میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور بش اتنظامیہ چاہے گی کہ وہ جلد از اس معاہدے کو حتمی شکل دے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد