امریکی تشویش، پاکستانی جوہری اثاثے غیر محفوظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غیریقینی سیاسی حالات اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی لہر نے مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کو ایک قدرے مختلف تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہیں موجودہ سیاسی بحران سے زیادہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی فکر لاحق ہے۔ کئی امریکی تِھنک ٹینکس نے تو موجودہ غیریقینی حالات کی وجہ سے حکومت کے گرنے کی صورت میں فوجی کارروائی کے ذریعے جوہری ہتھیاروں کو اپنی حفاظتی تحویل میں لینے جیسے منصوبوں پر ذرائع ابلاغ میں بحث بھی شروع کر دی ہے۔ ان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ القاعدہ یا دیگر شدت پسند تنظیمیں ان غیریقینی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہیں سرکاری اداروں کے بعض اہلکاروں کی مدد یا چوری سے کہیں یہ ہتھیار نہ حاصل کر لیں۔ کیا واقعی صورتحال اتنی خراب ہے اور پاکستانی جوہری ہتھیار اتنے غیرمحفوظ؟ امریکہ مخالف جذبات والے ممالک تو اور بھی کئی ہیں جو جوہری ہتھیار بھی رکھتے ہیں؟ تو پھر آخر پاکستان ہی کیوں؟
یہ دن جہاں پاکستان میں یومِ تکبیر کے طور پر منایا جانے لگا تو دوسری جانب امریکہ اور بعض دیگر مغربی ممالک کے لیے انتہائی تشویش کے آغاز کا روز بھی ثابت ہوا۔ بعد میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک اور پاکستان میں حالیہ کشیدگی اور انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر نے اس تشویش میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ حکومت پاکستان کی بار بار تردیدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود تشویشں میں بظاہر کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس بڑھتی تشویش کا مظہر امریکہ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے مضامین ہیں۔ انتہائی اہم شخصیات کی جانب سے لکھے جانے والے ان مضامین کی تعداد میں حالیہ سیاسی و قانونی بحران کے بعد کچھ غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بش انتظامیہ کے ساتھ نظریاتی روابط رکھنے والے امریکی تِھنک ٹینک انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کے فریڈرک کاگن نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پاکستانی ہتھیاروں کو قبضے میں لے کرامریکہ کی ریاست نیو میکسیکو کے محفوظ مقام پر پہنچا دیا جانا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہے کہ پاکستانی وضاحتوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا۔ اس بارے میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق کہتے ہیں کہ وہ بار بار تردید کرچکے ہیں کہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔ ’پاکستان کے جوہری اثاثے انتہائی جدید اور منظم کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کے تحت ہیں اور ان سے متعلق تمام خدشات بےبنیاد ہیں۔‘ لیکن بعض تجزیہ نگاروں کے قریب جب ملک میں تقریبا روزانہ خودکش حملے ہوں اور ملک کا سب سے مضبوط ادارہ یعنی فوج ہی نشانے پر ہو تو تشویش میں کمی کیسے آسکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ نے یقینا ایسے چند ’کنٹنجینسی‘ منصوبے تیار کر رکھے ہوں گے جس کے تحت غیریقینی حالات کے پیش نظر وہ ان ہتھیاروں کو قبضے میں لے سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کہتے ہیں کہ اگر کوئی اور ملک امریکہ کی جگہ ہوتا تو شاید وہ بھی یہی کرتا۔ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ القاعدہ امریکہ میں نائن الیون جیسے حملوں کے بعد اب اس سے بھی زیادہ خطرناک حملوں کے بارے میں کوششیں کر رہا ہوگا۔ اس خواہش کو پایہء تکمیل تک با آسانی پہنچانے کا یقیناً ایک ذریعہ جوہری ہتھیار ہوسکتے ہیں۔ امریکیوں کو یقین ہے کہ اس تنظیم کی کوشش ہوگی کہ وہ ان ہتھیاروں کو حاصل کر سکے۔ لیکن کیا القاعدہ جیسی تنظیم کے لیئے یہ ہتھیار حاصل کرنا ممکن ہے؟ پروفیسر پرویز ہودبھائی کہتے ہیں کہ القاعدہ یا اس سوچ کے حامل لوگ مستقبل میں یہ کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں زیادہ تشویش کی بات مغربی ممالک کا یہ خوف ہے کہ شاید پاکستانی حساس اداروں کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے شدت پسند یہ ہتھیار حاصل نہ کر لیں۔ پروفیسر پرویز ہودبھائی کہتے ہیں: ’پاکستانی ہتھیاروں کو چرانا شاید انتہائی سخت سکیورٹی کی وجہ سے ممکن نہ ہو لیکن اگر وہ لیبارٹریوں سے بم تیار کرنے کا مواد تھوڑا تھوڑا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو شاید وہ ایک ایسا ’کروڈ‘ بم یعنی خام کسم کا بم تیار کرسکیں جس سے اچھے بم جیسی تباہی تو حاصل نہ ہو لیکن ایک شہر کو پھر بھی تباہ کرسکیں گے۔‘ آخر پاکستان کی جانب شک کی انگلی کیوں اٹھتی ہے کہ شدت پسندوں کو جوہری ہھتیار ملیں گے تو یہیں سے ملیں گے۔ ناقدین کے خیال میں اگر پاکستان سے پورے کہ پورے سینٹی فیوجز برآمد کیے جاسکتے ہیں تو چھوٹا موٹا مواد کیوں نہیں۔ اس کی وجہ پروفیسر پرویز ہودبھائی کے مطابق حکومت کی کمزور رٹ قرار دی جاسکتی ہے۔ ’خفیہ اداروں یا فوج میں مجموعی طور پر اس کا امکان نہیں لیکن اندر کا ہی کوئی ایک شخص ایسا کر سکتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال ایک چھٹی پر سپاہی کے کوہاٹ میں گزشتہ دنوں ویڈیو کی دوکانوں کو بموں سے اڑانے کی کوشش کے دوران گرفتاری ہے۔‘ حکومتِ پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے جوہری ہتھیاروں کے مبینہ کاروبار میں ملوث ہونے کو ماضی کا ایک بند باب قرار دیتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق کہتے ہیں کہ وہ ایک انفرادی عمل تھا جس کی اب کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن بعض لوگوں کے لیئے یہ بات اب بھی وجہ تشویش ہے کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں مذہبی لوگوں کا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ اس ادارے کے ایک اعلی اہلکار کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اب بھی یہ بلاجھجک کہتے ہیں کہ انہیں غیرمسلم پسند نہیں۔ اس افسر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے نوبل انعام یافتہ عبدالسلام سے مصافحہ نہیں کیا کیونکہ وہ بقول ان کے ’قادیانی‘ تھے۔ نہ امریکی اور نہ پاکستان کے ماہرین موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور انہیں رکھے جانے والے مقام کے بارے میں کوئی زیادہ واضع معلومات رکھتے ہیں۔ اس بارے میں قیاس زیادہ اور قوی معلومات کم دستیاب ہیں۔ اگر جوہری بموں کی تعداد ہی لے لیں تو کوئی اسے تیس چالیس کے درمیان جبکہ بعض اور لوگ سو سے زیادہ بموں کی توقع کرتے ہیں۔ عسکری امور کے تجزیہ نگار برگیڈئر ریٹائرڈ شوکت قادر اس سے متفق نہیں کہ جوہری ہتھیاروں کے پاکستان سے چوری ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مغرب میں حفاظتی انتظامات سخت اور جدید ہیں تو وہاں کے چور بھی زیادہ جدید اور ماہر ہیں۔ ’پاکستان اور کسی دوسرے جوہری ملک سے ان ہتھیاروں کے غائب ہونے کا امکان ایک ہی طرح کا ہے۔ نہ کم نہ زیادہ۔‘ ’رہی بات طاقت کے ذریعے انتہا پسندوں کے ہاتھ ان ہتھیاروں کے آنے کی تو اس کا امکان بھارت یا کسی مغربی ملک میں اتنا ہی ہے جتنا کہ کہیں اور۔‘ تو پھر پاکستان کیوں زیادہ مشکوک ہے۔ شوکت قادر اس شک کو بجا قرار دیتے ہیں۔ ’پاکستان کا جوہری پروگرام خود چوری کی بنیاد پر چلایا گیا۔‘ حالانکہ ان کے بقول کئی امریکی اور مغربی اشخاص بھی اس غیرقانونی کاروبار میں ملوث تھے لیکن جو پکڑا جائے چور وہی۔ شوکت قادر اس شک کی دوسری بڑی وجہ یہاں امریکہ مخالف انتہا پسندوں کی موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ البتہ ان کا یہ کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں آج بھی جوہری سامان باآسانی دستیاب ہے جو کہ کافی تشویش کی بات ہے۔ ماہرین کے مطابق ایٹم بم بنانا آجکل کے جدید کمپیوٹر کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ اگر ضروری سامان اور آلات میسر ہو تو مناسب تکنیکی سوجھ بوجھ رکھنے والے کمتر سہی لیکن ایک چھوٹا سا بم تیار کرسکتے ہیں۔
پروفیسر ہودبھائی اگرچہ مستقبل کی پیشن گوئی کے لئے شہرت نہیں رکھتے لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ کچھ اچھا مستقبل نہیں دیکھ رہے۔ ’اس صدی میں، شاید ہماری زندگی میں نہیں ہماری اگلی نسلوں کی زندگی میں وہ وقت شاید آئے جب اس دنیا کو ایک بڑا جوہری سانحہ دیکھنا پڑے گا۔‘ اس صورتحال سے بچنے کی خاطر ماہرین کے مطابق کم از کم پاکستان کی حد تک یہاں جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو مزید نہ بڑھایا جائے، پہلے سے موجود ہتھیاروں کے حفاظتی اقدامات مزید بہتر کیے جائیں اور پاکستان اور بھارت کو مل کر ان ہتھیاروں کے خاتمے یا کم کرنے کا معاہدہ کرنا چاہئے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں سے ڈسے امریکہ کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے پاس جوہری ہتھیار یقینا باعث تشویش ہیں۔ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیئے اس کی سوچ بچار جاری ہے۔ بین الاقوامی ردعمل جاننے کے لیئے ہی سہی تاہم پاکستان جیسے کسی ملک پر حملے جیسی خبریں شاید جان بوجھ کر ہی وہاں کا ردعمل جاننے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||