BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 January, 2008, 14:51 GMT 19:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبل از الیکشن عمل غیر منصفانہ‘

بیلٹ باکس
’موجودہ صورتحال میں انتخابات ہرگز شفاف نہیں ہوسکتے‘
پاکستان کے بعض سرکردہ شہریوں پر مشتمل ایک گروپ نے انتخابات سے پہلے جاری کیے گئے اپنے سروے میں قبل از انتخاب عمل کو انتہائی غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

گروپ میں سابق جج، جرنیل، سینئر بیوروکریٹ، صحافی اور شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کلیدی عہدوں پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کے تحت کام کرنے والے اس گروپ نے پاکستان میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومتی انتظامات، عدلیہ کی آزادی، ضلعی حکومتوں کی غیر جانبداری، میڈیا کی آزادی سمیت نو اہم امور کا جائزہ لے کر اپنی سروے رپورٹ مرتب کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گروپ نے دسمبر سن دو ہزار چھ سے اکتیس دسمبر سن دو ہزار سات تک انتخابات کو شفاف بنانے کے عمل کا جائزہ لیا اور کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف، گورنرز، نگران حکومت، الیکشن کمیشن، ضلعی حکومتیں اور سرکاری میڈیا جانبدار ہیں۔

ہیر پھیر کی ضرورت
 انتخابات سے پہلے کا عمل ہی ایسا غیر منصفانہ ہے کہ اب پولنگ والے دن اور اس کے بعد سابقہ حکمراں اتحاد کو ہیر پھیر کی ضرورت بظاہر کم رہ جاتی ہے
پلڈاٹ مبصرین

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ آزاد نہیں، نجی میڈیا پر کڑی پابندیاں ہیں اور ملک میں امن و امان کا ماحول خراب ہے، ایسے میں انتخابات ہرگز شفاف نہیں ہوسکتے۔

انتخابی عمل کو مانیٹر کرنے والی سرکردہ شخصیات کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے کا عمل ہی ایسا غیر منصفانہ ہے کہ اب پولنگ والے دن اور اس کے بعد سابقہ حکمراں اتحاد کو ہیر پھیر کی ضرورت بظاہر کم رہ جاتی ہے۔

لیکن گروپ نے خبردار کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل، ملک میں موجود شدید گندم اور بجلی کے بحرانوں کی وجہ سے اگر سابقہ حکومتی اتحاد کی ساکھ کو دھچکہ لگا اور بظاہر ایسا نظر بھی آتا ہے تو پھر انتخابات کے باقی مرحلوں میں بھی ان کی ہیر پھیر اور دھاندلی کے امکانات اور بھی وسیع ہوجائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بار سپریم کورٹ پر حملہ کیاگیا تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ صدر مشرف نے سیاسی جماعتوں کے مشورے کے بغیر چیف الیکشن کمشنر کو اپنی صوابدید پر مقرر کیا۔

رپورٹ کے مطابق ضلعی ناظمین جو کھل کر مسلم لیگ (ق) کی حمایت کرتے رہے ہیں وہ اب بھی موجود ہیں، نگران حکومت میں اسی فیصد افراد سابقہ حکومتی اتحاد سے تعلق رکھتے ہیں، من پسند سرکاری ملازمین کی اہم عہدوں پر تقرریاں کی گئی ہیں اور ایسے میں انتخابات کا شفاف ہونا ممکن نہیں۔

ضلعی ناظمین کھل کر مسلم لیگ (ق) کی حمایت کرتے رہے ہیں

واضح رہے کہ اس گروپ میں پی سی او (مشرف دور کے پہلے پرویژنل کانسٹیٹوشنل آرڈر) کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی، سابق گورنرز شاہد حامد اور لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر نمایاں ہیں۔

ان کے علاوہ سابق وزراء جاوید جبار اور شفقت محمود، ڈان گروپ آف نیوز پیپرز کے حمید ہارون، نوائے وقت گروپ کے عارف نظامی، کاوش گروپ کے قاضی محمد اسلم، ڈیلی ٹائمز کے نجم سیٹھی، لاہور ہائی کورٹ کی سابقہ جج ناصرہ اقبال، سابق چیف سیکرٹریز عمر خان آفریدی اور سکندر حیات جمالی، دانشور حسن عسکری رضوی، رحیم اللہ یوسفزئی، احمد بلال اور آسیہ ریاض بھی اس گروپ میں شامل تھے۔

امیدواروں کی مشکل
دوبارہ سے انتخابی مہم چلانے میں مشکلات
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
ووٹ’دھاندلی روکی جائے‘
قبل از انتخاب دھاندلی، پیپلز پارٹی کی رپورٹ
’انتظامات نہیں ہیں‘
مخلف تنطیموں کا آئندہ انتخابات پر عدم اطمینان
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
اسی بارے میں
’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘
26 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد