’ISI کی مداخلت بند کرائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے انٹیلی جنس ایجنسیوں پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ’آئی ایس آئی‘ اور دیگر خفیہ اداروں کو انتخابات میں مداخلت سے روکیں۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے الیکشن مانیٹرنگ سیل کی جانب سے دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے پہلے مبینہ دھاندلی کے بارے میں تیار کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ پی پی پی کا کہنا ہے کہ یہ وہی رپورٹ ہے جو بینظیر بھٹو نے اپنے قتل کے روز پروگرام کے مطابق امریکی سینیٹرز کے حوالے کرنی تھی۔ سینتالیس صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بلوچستان میں ملٹری انٹیلی جنس کے افسران پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو اغواء کرنے، انہیں دھمکانے اور ووٹرز کو حراساں کرنے میں مصروف ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر یار محمد رند کو ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکار جتوانا چاہتے ہیں اور ان کے سیاسی مخالفین کو حراساں کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیرہ بگٹی سے پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار کو ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکار اغوا کر کے لے گئے اور نامزدگی فارم داخل نہیں کرنے دیا۔ جبکہ ان کے مطابق ڈیرہ بگٹی سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار سرفراز بگٹی کو میجر عدنان نےگرفتار کرلیا تاکہ وہاں سے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار طارق مسوری کو کامیاب کروایا جاسکے۔ سینیٹر لطیف کھوسہ کی سربراہی میں قائم کردہ الیکشن مانیٹرنگ سیل کی رپروٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اٹک، چکوال، لاہور، راولپنڈی، جہلم، گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، بہاولپور سمیت پنجاب کے پینتالیس اضلاع کے ناظمین اپنے قریبی عزیزوں کو انتخابات جتوانے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت کے بھائی نے مفرور اور جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ’وجاہت فورس‘ بنا کر مخالف سیاسی امیدوراوں اور ان کے حامیوں کو اغوا کیا جا رہا اور ڈرا دھمکا کر حراساں کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ پنجاب کے گورنر ہاؤس میں انتخابات میں دھاندلی کا ایک ’سیل‘ بنایا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر مشرف بارہا کہہ چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات شفاف، آزاد اور غیر جانبدار ہوں گے۔ راشد قریشی نے یہ بھی کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی قومی مصالحتی آرڈیننس کا نتیجہ تھی اور سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے بہترین انتخابات ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں ضلع ناظمین کی جانب سے مسلم لیگ ق کے امیدوراوں کو ووٹ دینے کے لیے جہاں پولیس اور دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا ہے وہاں ملازمتوں، ترقیاتی سکیموں، زکوات و عشر کے چیک بھی بطور رشوت دیئے جا رہے ہیں۔ ارباب غلام الرحیم، پرویز الہیٰ، اعجاز الحق، خورشید قصوری، شیخ رشید احمد، لیاقت جتوئی اور پیر پگاڑہ کے بیٹے سمیت متعدد سابق وزراء پر سرکاری وسائل کے استعمال کے الزامات لگائےگئے ہیں۔ رپورٹ میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ق اور متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم پر بھی انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے لیے پولیس، پیسے اور اختیارات کے استعمال کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے ضلع ناظمین کی جانب سے من پسند پولنگ سٹاف کی تقرری، حکومت کے غیر قانونی احکامات نہ ماننے والے پولیس اور دیگر محکموں کے افسران کو معطل کرنے یا جبری رخصت پر بھیجنے سمیت مختلف نوعیت کے انتخابات سے پہلے دھاندلی کے اقدامات کے بارے میں الیکشن کمیشن کو سینکڑوں تحریری شکایات بھیجی گئی ہیں لیکن اس پر کارروائی نہیں کی گئی۔ | اسی بارے میں انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان08 December, 2007 | پاکستان ’التوا انتہائی افسوسناک اقدام‘02 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان اٹھارہ فروری بہت دور ہے03 January, 2008 | پاکستان بینظیر کی نشست پر انتخاب ملتوی04 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||