BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 January, 2008, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘

 سینٹر بابر اعوان
ہماری پارٹی کسی کو وفاق توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتی: بابر اعوان
پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات سے متعلق تمام ثبوت صرف اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کرے گی۔

یہ بات پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینٹر بابر اعوان نے جمعرات کی شام ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے تحقیقات بیرون ملک تفتیش کاروں سے کروانے کی حکومتی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت ’ملزم بچاؤ‘ مہم میں مصروف ہے جو کہ بقول ان کے انتہائی شرمناک عمل ہے۔

انہوں نے وزارت خارجہ کی جانب سے لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری اور بےنظیر بھٹو کی ہلاکت میں کسی مماثلت کے نہ ہونے کے بیان پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے سانحے کے دو گھنٹے کے اندر اندر جائے وقوع کو دھونے پر بھی اعتراض کیا۔

اقوام متحدہ کہہ چکا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے مدد کی درخواست کی تو مثبت جواب دیا جائےگا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے ترجمان نے کہا تھا کہ اب تک حکومت پاکستان نے ان سے تحقیقات میں مدد کی درخواست نہیں کی ہے۔

 سندھ کو مرہم کی ضرورت ہے لیکن موجودہ حکمرانوں کے ہاتھوں میں خون اور بارود ہے
بابر اعوان

سینٹر بابر اعوان نے یہ بھی الزام لگایا کہ صوبہ سندھ میں دو لاکھ پارٹی کارکنوں کے خلاف اب تک ساڑھے چار ہزار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ابتدائی رپوٹوں میں پارٹی کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے تمام امیدوار اور وارڈ کی حد تک کارکن نامزد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ان مقدمات کے مدعی سیاسی لوگ ہیں۔ یہ گرینڈ دھاندلی کی سکیم کا حصہ ہو سکتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’سندھ کو مرہم کی ضرورت ہے لیکن موجودہ حکمرانوں کے ہاتھوں میں خون اور بارود ہے‘۔ انہوں نے سندھ میں فوج کشی کے فیصلے کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’ہماری پارٹی کسی کو وفاق توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتی ہے‘۔

بابر اعوان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ مل کر حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ اٹھارہ فروری کو انتخابات کا وعدہ کہیں ضیا الحق کا وعدہ نہ بن جائے۔ انہوں نے انتخابی کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے اس پر سیاسی نوسربازی کا الزام لگایا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ وہ ملک کا واحد ادارہ ہے جو اس معاملے پر خاموش ہے۔ ’پی سی او زدہ ججوں نے ایک سانحے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے‘۔

اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد