| | امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ رپورٹ ایک سو ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے |
امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بینظیر بھٹو اپنے قتل کی رات حکومت کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے مبینہ منصوبے پر ایک دستاویز امریکہ کے دو ارکانِ کانگریس کے حوالے کرنا چاہتی تھیں جو اس وقت پاکستان کے دورے پر تھے۔ ایک سو ساٹھ صفحات پر مبنی اس دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مشرف سرکار نے ووٹ کی پرچیوں یعنی بیلٹ پیپرز اور انتخابی فہرستوں میں دھاندلیوں، مخالف امیدواروں کو دھمکانے اور امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے فراہم کردہ آلات کے استعمال سے انتخابی نتائج کو بدلنے کا پورا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے حکومت کو فراہم کردہ نوے فیصد جاسوسی کے آلات کا استعمال سیاسی مخالفین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے مبینہ منصوبے کے مطابق جہاں کہیں بھی مخالف امیدوار مستحکم پوزیشن میں ہوں ان علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں پر جھگڑا کروا کر، جس میں اگر ضرورت پڑے تو لوگوں کو ہلاک کرنے سے بھی دریغ نہ کیا جائے، ووٹنگ کو تین چار گھنٹوں تک رکوا دیا جائے۔  | | | بینظیر کے قتل کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے | حکومتِ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور اس دستاویز کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ صدر کے ترجمان راشد قریشی نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ انتخابات منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف ہوں گے۔ انہوں نے کہا: ’میرے خیال میں یہ تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔‘ بینظیر بھٹو کے ایک معتمد نے کہا ہے کہ یہ دستاویز بینظیر کے حکم پر مرتب کی گئی اور اس میں وہ معلومات درج کی گئی ہیں جو خفیہ اداروں اور پولیس کے ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این کے مطابق بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے قتل کی رات حکومت کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت جاری کرنے جارہی تھیں۔ سینیٹر لطیف کھوسہ نے منگل کے روز کہا کہ محترمہ کے پاس 160 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز تھی جسے وہ پریس کانفرنس میں نشر کرنا چاہتی تھیں۔ وہ اس دستاویز کو دو امریکی ارکانِ کانگریس کے حوالے بھی کرنا چاہتی تھیں جو اس وقت پاکستان کے دورے پر تھے۔ کھوسہ نے کہا کہ یہ دستاویز ان کی لکھی ہوئی تھی اور اس کا عنوان تھا، ’جمہوریت کے ماتھے پر ایک اور دھبہ‘ اور اس میں انتخابات سے قبل دھاندلی کے شواہد فراہم کیے گئے تھے۔ یہ دستاویز ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہے۔ لطیف کھوسہ نے الزام لگایا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کو انتخابات میں دھاندلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ |