BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 December, 2007, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عالمی ماہرین سے تحقیقات کا مطالبہ‘

رانا بھگوان داس(فائل فوٹو)
’بتایا نہیں گیا کہ عدالتی کمیشن کن معاملات پر تفتیش کرے گا‘
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے دو ججوں نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کی موت کو سکیورٹی اقدامات میں کوتاہی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا عدالتی کمیشن کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔

ججوں نے اس کو بین الاقوامی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات بین الاقوامی ماہرین سے کروانے کا مطالبہ کیا۔

سپریم کورٹ کے سینیر جج رانا بھگوان داس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح سیاستدانوں کے قتل سے عالمی برادری میں پاکستان کے تشخص کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا تشخص پہلے ہی بہت خراب ہے اور ایسے واقعات سے ملک کی مزید بدنامی ہوتی ہے۔

فوج واپس جائے
 ملک میں مکمل جمہوریت ہونی چاہیے اور فوج کو بیرکوں میں واپس جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔
سردار رضا خان
بھگوان داس نے کہا کہ بہت سے یورپی اور ایشائی ملکوں کی حکومتوں نے پاکستان میں رہنے والے اپنے باشندوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں جبکہ ان ملکوں نے اپنے شہریوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پاکستان کا دورہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

حکومت کی طرف سےہ قائم کردہ عدالتی کمیشن کے بارے میں رانا بھگوان داس نے کہا کہ اس کی کوئی ساکھ نہیں ہوگی اور اس ضمن میں حکومت نے بھی نہیں بتایا کہ انکوائری کمیشن کن معاملات پر تحقیقات کرے گی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج نے کہا کہ بےنظیر بھٹو عالمی سطح کی لیڈر تھیں اور پوری دنیا نے ان واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور اس لیے اس واقعہ کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کروانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ایک اور سینیر جج جسٹس سردار رضا خان نے کہا کہ پہلے عدلیہ کا بحران اور اب پیپلز پارٹی کی چیرپرسن کا قتل ان واقعات سے ملک میں غیر یقینی کی سی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات گھر کے اندر رہ کر خراب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان میں جو حالات خراب ہوئے تھے تو وہ بہت دور تھا اور وہاں پر حالات کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

ایک سوال کے جواب میں جسٹس سردار رضا نے اس واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ کبھی بھی منظر عام پر نہیں آئی اور کوئی نہیں جانتا کہ عدالتی کمیشن کس کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ادارے اس واقعہ کی بہتر تفتیش کرسکتے ہیں۔سردار رضا نے کہا کہ جب بھی کسی واقعہ کی تحقیقات کا بوجھ دوسروں پر ڈالنا ہو تو کمیشن مقرر کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مکمل جمہوریت ہونی چاہیے اور فوج کو بیرکوں میں واپس جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد