’التوا انتہائی افسوسناک اقدام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز نے انتخابات کے التوا کو ایک انتہائی افسوسناک اقدام قرار دیا ہے اورکہا کہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی حیثیت آمریت کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ نواز کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انتخابات کو ملتوی کرنے کا مقصد اس کےسوا کچھ نہیں ہے کہ مردہ ہوجانے والی( ق) کو پھر زندہ کرنے کی کوشش کی جائے لیکن (ق) میں جان نہیں ڈالی جاسکتی۔ مسلم لیگ نواز نے مطالبہ کیا کہ صدر پرویز مشرف اقتدار سے الگ ہوجائیں اور قومی حکومت تمام جماعتوں کی مشاورت کے ساتھ طے شدہ انتظامات کے تحت انتخابات کرائے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے انتخابات کے التوا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے مشرف ہٹاؤ تحریک میں شامل ہوجائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر پرویزمشرف کے استعفے کے بعد نئی حکومت نئے الیکشن کمیشن اور نئے شیڈول کے تحت انتخابات کرائے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے التوا کے حق میں نہیں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں۔ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا ہے کہ انتخابات ایک مرتبہ ملتوی کئے جانے کے بعد دوبارہ کوئی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ جنرل ضیاءالحق نے اپنے دور میں کی تھی۔ |
اسی بارے میں بائیکاٹ پر قائم ہیں: اے پی ڈی ایم01 January, 2008 | پاکستان الیکشن ملتوی ہونے کا امکان 01 January, 2008 | پاکستان پرتشدد احتجاج میں کمی30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||