بائیکاٹ پر قائم ہیں: اے پی ڈی ایم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے بائیکاٹ کے فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے مطالبات کی منظوری کےلئے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے جس کی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ میں اے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد اے پی ڈی ایم کے کنوینئر محمود خان اچکزئی نے قاضی حسین احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین حامد خان ایڈووکیٹ، عابد حسن منٹو، لیاقت بلوچ، جنرل (ر) حمید گل، رسول بخش پلیجو، حمید الدین مشرقی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے دہشت گردی کے واقعہ میں جاں بحق ہونے سے ملک کو درپیش بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی شہر میں دو سابق وزراءاعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پر دو گھنٹے کے وقفے سے حملے کئے گئے۔ انہوں نے صدر کے استعفیٰ اور تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے قومی حکومت قائم کر کے آزاد الیکشن کمیشن کی نگرانی میں عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عام انتخابات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ’اگر ہم انتخابات میں حصہ لیتے تو بہت سی نشستیں حاصل کر سکتے تھے لیکن تمام اختیارات صدر کے پاس ہیں اور ان حالات میں نواز شریف بھی وزیراعظم بن کر کچھ نہیں کر سکتے۔‘ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عام انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کبھی بائیکاٹ کا اعلان کرتی ہے کبھی الیکشن میں حصہ لینے کا۔ انہوں نے دو بارہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا غلط فیصلہ کیا جس پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اے پی ڈی ایم کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں کیونکہ الیکشن فراڈ ہے اور اس کے نتیجے میں بننے والی اسمبلیاں غیر آئینی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حالات میں بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) الیکشن لڑنا چاہتی ہیں تو اپنا شوق پورا کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم پر امن احتجاجی تحریک کے ذریعے ججوں کو بحال کرائے گی۔ اس موقع پر قاضی حسین احمد نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل سے عوام صدمے میں ہیں، انہیں صدمے سے اسی طرح نکالا جا سکتا ہے کہ قومی حکومت تشکیل دی جائے اور اس کی نگرانی میں عام انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کےلئے بھی بعض اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پر امن تحریک کے دوران عنقریب اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی جائے گی جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کی سرگرمیاں بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے معطل ہو گئی تھیں اب احتجاجی تحریک کے پروگرام کو از سر نو مرتب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کا بائیکاٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔ | اسی بارے میں الیکشن ملتوی ہونے کا امکان، سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ01 January, 2008 | پاکستان ’مختصر التواء میں حرج نہیں‘01 January, 2008 | پاکستان ’الیکشن ملتوی ہو سکتے ہیں‘01 January, 2008 | پاکستان اعتزاز کی نظر بندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||