پرتشدد احتجاج میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کی شام بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پھوٹنے والی ہنگامہ آرائی پر حکومت نے اتوار کو قدرے قابو پالیا اور ملک کے کسی حصے سے تشدد کے واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم گزشتہ رات تک ہونے والی ہنگامہ آرائی میں چوالیس افراد ہلاک ہوئے اور سنیکڑوں گاڑیوں اور سرکاری اور نجی املاک کو نذرآتش کردیا گیا۔ جمعرات سے اب تک پیٹرول پمپ بند ہیں اور روزمرہ زندگی کی اشیاء یعنی دودھ، آٹا، چاول، سبزی، اور دیگر چیزیں ناپید ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بڑے بازار بند ہیں تاہم محلوں اور گلیوں میں روزمرہ اشیاء کی دکانیں کچھ وقفے کے لئے کھول دی جاتی ہیں لیکن وہاں دکاندار منہ مانگی قیمت وصول کررہے ہیں۔ کراچی میں مکمل ہڑتال کا سماں ہے اور خوف کا عنصر غالب ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند ہے جبکہ نجی گاڑیاں بہت کم تعداد میں سڑک پر نظر آرہی ہیں جس کی بڑی وجہ پیٹرول پمپس کی بندش ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کے سیکریٹری بریگیڈئر ریٹائرڈ غلام محمد محترم نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں تشدد کے واقعات میں پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تشدد کا آخری واقعہ کراچی میں لیاری کے علاقے میں ہفتہ کی رات پیش آیا تھا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح سے کراچی سمیت سندھ کے تمام شہروں میں حالات قابو میں ہیں۔ پیٹرول پمپس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اتوار کی شام تک کھول دیے جائیں گے۔ دوسری جانب پاکستان پیٹرول پمپس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع خان نے کہا ہے کہ حکومت اگر کراچی میں ان کے پونے تین سو پیٹرول پمپس کو تحفظ فراہم کرے تو وہ پیٹرول پمپس کھول دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی ایسوسی ایشن کی حکومت کے اہکاروں سے بات چیت ہورہی ہے۔ اسی طرح کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ڈیڑھ سو بسوں اور منی بسوں کو نذر آتش کیا گیا ہے جبکہ ٹرک اور ٹریلر اس سے علیحدہ ہیں۔ انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حکومت ان کو تحفظ فراہم کرے تو وہ ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے تیار ہیں۔ آج ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی بے نظیر بھٹو کے سوئم کا بڑا اجتماع ان کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس، کلفٹن میں ہے جہاں ظہر سے عصر کی نماز کے دوران فاتحہ اور دعا کی گئی۔ سوئم میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ دیگر شخصیات اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی پشاور میں جناح پارک میں پپلزپارٹی کی جانب سے تعزیتی کیمپ لگایا گیا جہاں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ دیگر شخصیات اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اسی طرح کا ایک اور کیمپ ارباب عالمگیر نے یونیورسٹی روڈ پر لگایا تھا۔ پشاور میں اتوار کو امن و امان کی صورتحال قابو میں رہی تاہم بازار اور مارکیٹیں جزوی طور پر بند رہیں۔ شہر میں پیٹرول پمپس بھی بند ہیں جس کی وجہ سے گاڑیاں سڑکوں پر بہت کم ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم اتوار کی صبح سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ کوئٹہ سے عزیزاللہ خان بلوچستان میں آج اتوار کے روز بھی شہر اور سڑکیں سنسان رہیں۔ مختلف علاقوں میں جلوس نکالے گئے ۔ نصیر آباد کے علاقے میں پیپلز پارٹی اور قاف لیگ کے کارکنوں میں تصادم سے تین کارکنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ نصیر آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے کارکن تمبو کے علاقے میں بے نظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ ادا رکنے جارہے تھے راستے میں کچھ دکانیں کھلی تھیں جنھیں بند کرانے کی کوشش کی گئی جس پر مسلم لیگ قاف کے کارکن پہنچے اور دکانیں کھولنے کے لیے کہا جس پر دونوں میں ہاتھا پائی ہوئی ہے۔اس تصادم میں پیپلز پارٹی کے تین کارکن زخمی ہوئے ہیں لیکن نصیر آباد کے پولیس افسر مجاہد اکبر نے کہا ہے کہ کوئی زخمی نہیں ہوا ہے اور معاملہ حل کرا لیا گیا ہے ڈیرہ اللہ یار میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ہے اور تحصیل کونسل کے دفاتر کی طرف جانے کی کوشش کی ہے لیکن فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے مظاہرین کو روک دیا ہے۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے تک شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرے جاری تھے۔ ڈیرہ اللہ یار میں دو روز پہلے توڑ پھوڑ کے بعد فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے اہلکار تعینات کر دیے گئے تھے۔ یاد رہے دو روز پہلے ڈیرہ اللہ یار اور صحبت پور میں مظاہرین نے بینکوں دفاتر اور یوٹیلیٹی سٹورز کو آگ لگا دی تھی ۔ کوئٹہ شہر کے تمام بازار اور دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعض مقامات پر بنیادی ضروریات کی اشیاء کی دکانیں جیسے سبزی گوشت اور ہوٹل کھولنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے زبردستی بند کر ا دیے تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے آج کے لیے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کر رکھی ہے جبکہ گزشتہ روز اے این پی کے کارکنوں نے بے نظیر بھٹو کی ہلاکت پر جناح روڈ پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر بے نظیر بھٹو کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے اور ان کی مغفرت کے لیے قرآن خوانی اور دعائیں کی گئی ہیں۔۔ پشین خضدار نوشکی سبی خاران لورالائی ژوب مکران ڈویژن اور دیگر علاقوں میں کاروبار زندگی مکمل طور پر بند رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||