اٹھارہ فروری بہت دور ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سوال کی ضرورت پیش نہ آتی اگر ابتدائی تعزیتی بیانات اور صبرو تحمل کی روائیتی اپیلوں کے فوراً بعد ایک دوسرے پر تیسرے درجے کے رکیک حملے نہ ہوتے اور یہ یقین ہوتا کہ الیکشن کمیشن نے چند اشخاص کے کہنے پر نہیں بلکہ تمام اہم سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی ہے۔ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں کہ سیاست میں ایک ہفتہ بھی بہت طویل ہوتا ہے۔اس کہاوت کی روشنی میں اب سے اٹھارہ فروری تک کیا کیا انہونی ہوسکتی ہے اسکا ہلکا سا اندازہ ستائیس دسمبر سے کشیدگی کے چولہے پر چڑھی سیاسی دیگ کے چاولوں سے ہوسکتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کی مٹی ابھی گیلی ہے ۔ انکا کفن بھی میلہ نہیں ہوا اور آنکھوں نے کاروبارِ گریہ بھی ختم نہیں کیا۔ لیکن جلے ہوئے بینکوں، ٹرین کے ڈبوں، گوداموں ، دوکانوں اور پچاس سے زائد لاشوں کا زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھانے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔
پہلا راکٹ نوڈیرو سے فائر کیا گیا جب وصیت کی بنیاد پر خودنامزد کردہ پیپلز پارٹی کےشریک چیرمین آصف علی زرداری نے قاتل کا تعین ہوئے بغیر مسلم لیگ ق کو قاتل لیگ کے خطاب سے سرفراز کر ڈالا۔ اور خود کو وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر جاوید اقبال چیمہ کے لیول پر لے آئے جنہوں نے بی بی بے نظیر کے منظر سے ہٹنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر یہ کہہ کر تفتیش مکمل کر دی کہ قاتل دراصل لینڈ کروزر کا وہ لیور ہے جو بیت اللہ محسود کے خودکش بم حملے کے جھٹکے سے بی بی بے نظیر کے سر میں پیوست ہوگیا۔ اس کے بعد جانے کیوں اسکاٹ لینڈ یارڈ کو زحمت دی جارہی ہے۔ قاتل لیگ کا راکٹ فائر ہونے کے بعد سابق اور موجودہ حکومتی جماعت کے قائد چوہدری برادران نے جوابی راکٹ نوڈیرو کے ساتھ ساتھ نسلی و لسانی بھوسے کی طرف فائر کئے۔ یہ جانے یا نہ جانے بغیر کہ بھوسہ کتنی تیزی سے آگ پکڑتا ہے۔ سندھ میں تین روز کی لوٹ مار اور تشدد میں جو لوگ اجڑے ہیں انکے لئے چوہدری پرویز الہی نے ایک امدادی سیل قائم کردیا ہے۔ بشرطیکہ متاثرین یا تو مسلم لیگ ق کے حامی ہوں یا بقول انکے سندھ سے نقل مکانی کرنے والے پنجابی آباد کار ہوں۔ چوہدری پرویز الہی جو وفاقِ پاکستان کے وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں فی الوقت انکے سامنے غالباً کسی نے یہ بات نہیں رکھی کہ دہشت گردی کے ہاتھوں ہزاروں لوگ اور انکی املاک وفاقِ پاکستان کے علاقے سوات ، وزیرستان اور بلوچستان میں بھی اجڑی ہیں۔ لیکن کسی بھی صوبے کی سابقہ یا نگراں حکمراں جماعت نے ان لوگوں کے نقصانات پورے کرنے اور کوائف جمع کرنے کے لئے سیل قائم نہیں کیا۔ سندھ کے مجموعی متاثرین میں سے منتخبہ طبقات کے لئے امدادی سیل اس سوچ کا غماز معلوم ہوتا ہے کہ سیاست چونکہ فی زمانہ ایک کاروبار ہے لہذا کاروبار میں صرف وہ چیز مارکیٹ سے اٹھائی جاتی ہے جس کا فوری فائدہ ہو۔ کیونکہ چوہدری برادران کا بنیادی ووٹ بینک پنجاب میں ہے اور اس ووٹ بینک کو پیپلز پارٹی کے لئے ہمدردی کی ممکنہ انتخابی لہر سے متاثر نہیں ہونا چاہئیے۔ سندھ میں تین روزہ لوٹ مار کے دوران جس میں سیاسی کارکنوں سے کہیں زیادہ جرائم پیشہ گروہوں اور طبقات نے حصہ لیا۔ انہیں روکنے کے لئے پولیس رینجرز اور فوج چوتھے روز حرکت میں آئی۔ اس دوران سندھ کے ویران ریلوے سٹیشنوں پر کھڑی ٹرینوں کو جہاں کچھ لوگ بے خوفی سے جلا رہے تھے وہیں ان ریلوے سٹیشنوں کے آس پاس کے گوٹھوں میں رہنے والے ہزاروں مقامی لوگ مسافروں کی نسل اور قومیت پوچھے بغیر انہیں کھانا پینا اور پناہ دے رہے تھے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس طرح کی معلومات عام طور سے انتخابات کے زمانے میں کسی بھی سیاسی جماعت کے سیل کے کام کی نہیں ہوتیں۔ پاکستان ایک مرتبہ بنگالی اور پنجابی کی تقسیم کی فضا میں ہونے والے انتخابات بھگت چکا ہے۔اس وقت بھی مقابلہ زرداری بمقابلہ چوہدری نہیں بلکہ وفاق بمقابلہ اقتدار ہے۔ اگر وفاق کے دعویدار سیاستدانوں نے فوری طور پر اپنے منہ میں بھرے پٹرول کو کلی کرکے نہ پھینکا تو اگلے چالیس روز میں یہ صرف مداری کا سیاسی کرتب نہیں رہے گا۔بلکہ تماشائیوں کے کپڑے بھی جل سکتے ہیں۔ایسی صورت میں اٹھارہ فروری کو کون ووٹ ڈالے گا اور کیا سوچ کر۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||