 | | | لیاقت علی خان کے قتل کی تفتیش کے لئے بھی سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لی گئی تھی۔ |
یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستانی حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو مدد کے لئے پکارا ہو۔ پچھلے ساٹھ برسوں سے جیسے اس ملک میں کئی سیاسی رہنماؤں کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا ہے بالکل ویسے ہی سکاٹ لینڈ کو تقریباً ہر بار مدد کے لئے بلایا گیا ہے۔ لیکن کیا کبھی برطانیہ کے اس ’مشہور اور معروف‘ ادارے کے ماہرین پاکستان کے پر اسرار سیاسی قتل کی گھتیاں سلجھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں؟ آج سے چھپن سال پہلے جب راولپنڈی میں اسی مقام پر جو اس وقت کمپنی باغ کہلاتا تھا، ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا تو اس وقت کی اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ غیر ملکی ماہرین سے تحقیقات کروائی جائیں۔ اس مطالبے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت بھی اپوزیشن خود حکومتی اہلکاروں کے لیاقت علی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگارہی تھی اور حکومتی تفتیش پر اسے اعتبار نہیں تھا۔
 | | | بے نظیر بھٹو نے اپنے بھائی کی ہلاکت کی تفتیش کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ اور ہوم آفس فورینزکس کی مدد لی تھی۔ |
حکومت نے ابتدائی طور پر سکاٹ لینڈ یارڈ سے مدد لینے سے انکار کیا لیکن پھر رضا مندی ظاہر کی اور جب سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہر تفتیش میں مدد کے لئے پہنچے تو اس کے کچھ ہی ہفتوں بعد انہیں جلدی میں واپس بھیج دیا گیا۔ اس واقعے کے ٹھیک پینتالیس برس بعد جب مرتضٰی بھٹو کو انہی کے گھر کے سامنے ہلاک کردیا گیا تو اس وقت بےنظیر بھٹو کی حکومت نے برطانوی ہوم آفس کے فوریزک اور سکاٹ لینڈ کے سابق ماہرین کو مدد کے لئے بلایا۔ان ماہرین نے کام شروع ہی کیا تھا کہ اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے بےنظیر حکومت کے خاتمے کے بعد ان ماہرین کو شکریے کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ اور اب گیارہ برس بعد پھر سے برطانوی ماہرین پاکستانی اہلکاروں کی مدد کے لئے پہنچنے کو ہیں۔ لیکن یہ تکلیف دہ حقیقیت پھر سے عیاں ہے کہ نہ تو پاکستان میں سیاسی قتل کے اس سلسلے میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی ان کی تفتیش کے لئے پاکستانی ریاست کے رویے میں۔ اب کی بار پاکستانی ریاست کیا کرے گی اور سکاٹ لینڈ یارڈ کیا کر پائے گی؟ شائد اس کا اندازہ لگانا اب یقینناً اتنا مشکل نہیں رہ گیا۔ |