اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد، ایک سیاسی حربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد سے بینظیر بھٹو کی قتل کی تفتیش کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تحقیقات کا بدل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد سے پاکستانی اداروں کی طرف سے کی جانے والی تفتیش کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ قرار دیا جانا بھی درست نہیں ہو گا۔ برطانیہ کے ماہر قانون سبغت اللہ قادری کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کو برطانوی قانون اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی اور ملک میں جا کر آزادانہ طور پرتفتیش یا تحقیقات کرے البتہ یہ اس ملک کے اداروں کی مدد کر سکتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی تجزیہ نگار نسیم زہرا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرف حکومت کی طرف سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد طلب کرنے کا مقصد صورت حال کو ٹھنڈا کرنا ہے۔ اے ایف پی نے نام ظاہر کیئے بغیر ایک پاکستانی سرکاری افسر کے حوالے سے کہا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ پاکستان جا کر کچھ نہیں کر پائے گی۔ اس سرکاری افسر نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ بنیادی طور پر یہ سوال پوچھے گی کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کہاں ہے اور ہلاکت کی اصل وجہ کیا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان سوالوں کا جواب پاکستانی حکومت کے پاس نہیں ہے۔ سبغت اللہ قادری نے کہا کہ پاکستان کے قانون میں تبدیلی کے بغیر اسکاٹ لینڈ یا کسی اور ملک کے تحقیقاتی ماہرین پاکستانی حکام سے تفتیش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اختیار صرف اور صرف اقوام متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ تفتیش کاروں ہی کو حاصل ہو سکتا ہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت وہ کسی ملک میں جا کر اس کے حکام سے تفتیش کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ سبغت اللہ قادری نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے پاکستان میں انٹیلی جنس بیورو کے چیف کا نام اپنے ایک خط میں لیا ہے تو کیا یہ مکمن ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو ان سے تفتیش کرنے کی اجازت حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کو اس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد سے تفتیش کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اگر اسکاٹ لینڈ یارڈ سے آزادانہ تحقیقات کرانے میں سنجیدہ ہے تو اسے قانون میں ترمیم کرنی ہو گی اور اسکاٹ یارڈ کی ٹیم کو پورا اختیار دینا ہو گا کہ وہ کسی بھی سرکاری افسر سے تفتیش اور پوچھ گچھ کرسکے۔ ا نہوں نے کہا کہ صرف اسی صورت میں اسکاٹ لینڈ آزادنہ تحقیقات کر سکے گی کہ اسے یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ کسی بھی سرکاری افسر سے پوچھ گچھ کر سکے، جو سرکاری کاغذات اسے درکار ہوں وہ طلب کیئے جا سکیں اور جس کسی کو بھی چاہیں وہ گرفتار کر سکیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو:منفرد سیاسی شخصیت کی مالک 27 December, 2007 | پاکستان بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنپاکستان بینظیر کیس میں مدد کو تیار: فرانس02 January, 2008 | پاکستان برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف02 January, 2008 | پاکستان ’اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائیں‘ 02 January, 2008 | پاکستان ’ہنگاموں میں اکاون لوگ ہلاک ہوئے‘02 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||