بینظیر کیس میں مدد کو تیار: فرانس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی وزیر خارجہ برناڈ کوشنر نے صدر پرویز مشرف اور نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو سے ملاقاتیں کیں اور انہیں بینظیر کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے تعاون کی پیشکش کی۔ برناڈ کوشنر بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد کسی بھی ملک کے پہلے وزیر خارجہ ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے صدر مشرف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف نے ان کی تحقیقات کی پیشکش کو ایک ’دلچسپ پیشکش‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف سے پینتالیس منٹ کی ملاقات میں انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ قتل کی تحقیقات کے لیے وہ پاکستانی ماہرین کی مدد کے لیے فرانسیسی یا یورپی ماہرین بھیج سکتے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے لیاقت باغ میں جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا اور انہوں نے جائے حادثہ پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے فرانس کے سفارتخانے میں پیپلز پارٹی کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں سینیٹر لطیف کھوسہ اور شہناز وزیر علی بھی شامل تھے۔
ادھر پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں اگر ضرورت پڑی تو غیرملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بدھ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ برناڈ کوشنر نے ’بینظیر قتل کیس‘ کی تحقیقات کے حوالے سےتعاون کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح ابھی تک اس واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے تین ملکو ں نے تعاون کی پیشکش کی ہے جن میں فرانس کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ امریکی کانگریس کے تیرہ ارکان کے بیان پر انہوں نے کہا کہ امداد مشروط کرنے کی دھمکی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی۔ یاد رہے کہ امریکی کانگریس کے تیرہ ارکان نے اپنی حکومت سے کہا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات بین الاقوامی ماہرین سے نہیں کرواتی تو اس کی امداد بند کردی جائے۔ بینظیر قتل کیس کی لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی طرح بین الاقوامی تحقیقات کروانے کے بارے میں محمد صادق نے کہا کہ لبنان اور پاکستان کے حالات میں بہت فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ رفیق حریری کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے نو مختلف رپورٹیں اقوام متحدہ کو پیش کی تھیں۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں محمد صادق نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں غیر معمولی حالات آتے ہیں تو ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ | اسی بارے میں جن سوالوں کا جواب نہیں29 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل، عالمی تفتیش پر غور31 December, 2007 | پاکستان بلاول چیئرمین، الیکشن میں شرکت31 December, 2007 | پاکستان وصیت جاری کرنا لازمی نہیں: زرداری31 December, 2007 | پاکستان حصص بازار: مندی کا رحجان جاری01 January, 2008 | پاکستان بینظیر انتخابی دھاندلی پر رپورٹ دینے والی تھیں: امریکی میڈیا01 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||