’ہنگاموں میں اکاون لوگ ہلاک ہوئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں میں اکاون افراد ہلاک اور مجموعی طور پرایک سو سینتالیس زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سےابتدائی طور پراکٹھے کیےگئے نقصان کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں تین سو بینکوں کو نذر آتش کیا گیا ہے یا جزوی نقصان پہنچا ہے، آٹھ سو سات سرکاری دفاتر جزوی یا مکمل طور پر جلائے گئے ہیں یا توڑ پھوڑ کا شکار ہوئے ہیں۔ دس ٹرینوں اور پینتالیس ریلوے سٹیشنوں کو نقصان پہنچا ہے، سترہ سو دکانیں جلائی یا لوٹی گئی ہیں اور پچہتر پیٹرول یا سی این جی پمپوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے۔ پچاس کے قریب فیکٹریوں، کارخانوں اور پندرہ سرکاری گودام کو نذر آتش کیے گئے یا انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اکہتر پولیس تھانوں، چوکیوں اور دفاتر اور نو حراستی مراکز اور ایک سو سے زائد سکولوں کو نذر آتش یا جزوی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پینٹسھ گھروں پر حملے کیےگئے جن میں جیکب آباد اور لاڑکانہ کے ڈی سی اوز کے گھر بھی شامل ہیں۔ صوبائی محکمہ ریوینیو کا کہنا ہے کہ تمام ڈی سی اوز کو نقصان کی مالیت سمیت حتمی رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہیں۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ریوینیو کا پرانا ریکارڈ نذر آتش ہوگیا ہے جس وجہ سے آنے والے دنوں میں مشکلات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب سندھ بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مزید مقدمات دائر کیے گئے ہیں ،جن پر دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ، نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزمات کے عائد کیے گئے ہیں، ان مقدمات میں حکومت خود فریادی ہے۔ پولیس کی جانب سے تھرپارکر، کشمور، خیرپور، جیکب آباد، نوابشاہ، نوشہرو فیروز اور دیگر اضلاع میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے رہنما نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں ہزاروں کارکنوں کے نام ایف آئی آر میں دے کر حکومت ماحول خراب کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کہیں دکھائی نہیں دی۔’ ہمیں سب پتہ ہے، لوگ گواہی دے رہے ہیں کہ غنڈہ عناصر نےموقع کا فائدہ اٹھا کر ہمیں ہی لوٹا اور ہماری بینظیر کو چھینا۔‘ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سیاسی کارکن جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نہیں اور پولیس نےاس کا نام ایف آئی آر میں درج کیا ہے تو یہ نام خارج کردیا جائےگا۔ پی پی پی کے نامزد امیدواروں پر مقدمات کے بارے میں صوبائی وزیر داخلہ اختر ضامن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بینک کو لوٹ رہا تھا یا انجن جلا رہا تھا اور کوئی رہنما وہاں کھڑا تھا تو اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیئے۔ اس سے قبل حکومت کا موقف تھا کہ سیاسی کارکن سوگ منا رہے ہیں اور جرائم پیشہ افراد لوٹ مار میں ملوث ہیں، اس کے برعکس تمام مقدمات سیاسی کارکنوں پر دائر کیےگئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے کارکنوں کی قانونی مدد کے لیے ضلع سطح پر لیگل ایڈ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں اہم شخصیات پر حملوں کی تاریخ19 October, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ پہنچ گئی27 December, 2007 | پاکستان سیاسی واقعات: کب کیا ہوا27 December, 2007 | پاکستان انتخابی ریلی پر خودکش حملہ، بینظیر زخمی، کم سے کم پندرہ افراد ہلاک27 December, 2007 | پاکستان ہنگامے، توڑ پھوڑ، غم و غصے کی لہر27 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||