BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 December, 2007, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر بھٹو، ایک نڈر خاتون‘

بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)
وہ عوامی مجمے کے سامنے کئی گھنٹوں تک کھڑے رہ کر بولنے کی صلاحیت رکھتی تھیں
بینظیر بھٹو، نہ صرف مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم تھیں بلکہ عمر کے اعتبار سے بھی وہ پہلی وزیراعظم تھیں جو صرف پینتیس برس کی عمر میں اس عہدے پر فائز ہوئیں۔

بینظیر بھٹو کے بیس سالہ ہنگامہ خیز سیاسی دور کے دوران ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو میرے سامنے آئے جس کا میں یہاں تذکرہ کروں گی، ایک ولولہ انگیز عوامی شخصیت جو کئی گھنٹوں تک اردو زبان میں اپنی سخن گوئی سے پرجوش مجمع کو باندھ سکتی ہو، بطور وزیراعظم لمبے ڈگ بھرتی طاقت کے ایوانوں سے گزرتی، اپنے سر کی جنبش سے راستے میں آنے والوں کو ’اسلام علیکم‘ کہتی ہوئی بینظیر اور کبھی اپنےتینوں بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے والی ایک بالکل نادان ماں۔

ان برسوں کے دوران ہم نے جمہوریت سے لے کر ان کی غذا، ان کے اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف چلنے والے کرپشن کے الزامات اور انہیں سیاسی زندگی میں درپش سخت مشکلات تک، تقریباً ہر موضوع پر بات کی ہے۔

دو مرتبہ وزیراعظم بننے کی مدت کے دورران انہوں نے کئی لوگوں کو مایوس کیا تاہم ان کی جوبھی خامیاں ہوں، وہ بڑی باہمت خاتون تھیں۔ سیاسی کھیل ان کے خون میں تھا۔ ان کے بارے میں ایک عام تاثر یہی تھا کہ ایک بھٹو ہونے کی حیثیت سے وہ ’پیدا ہی حکومت کرنے کے لیے‘ ہوئی تھیں اور یہ کہ ان کی اور پاکستان کی قسمت ایک ہے۔

اس سال اکتوبر میں خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے شاندار واپسی کے عمل کے دوران میں نے بینظیر بھٹو کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

نومبر میں اسلام آباد سے باہر ہماری آخری ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے دوران ان کی آنکھوں میں پاکستان، اپنے گھر لوٹنے کی خوشی دیدنی تھی۔ اس انٹرویو کے دوران ہمارے درمیان کئی سخت سیاسی سوالات زیر بحث آئے۔ اس انٹرویو کے دوران میں نےایک لمحے کے لیے اس عورت کو جو کہ ابھی تک اپنی پرجوش واپسی کے جذبات سے ملغوب تھی، رونما ہونے والے پرتشدد واقعات پر خوف زدہ اور وطن واپسی کے لیے اپنے متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے دباؤ میں محسوس کیا۔

فائل فوٹو
بینظیر کو ان گنت ساتھیوں کی اندھی وفاداری حاصل تھی

اس دوران ان کی آنکھیں آنسوؤں سے چھلک پڑیں تاہم اگلے ہی لمحے انہوں نے اپنے حواس کو جمع کیا اور بغیر کسی توقف کے اپنی اگلی مصروفیات میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئیں۔

روایتی سفید دوپٹہ اوڑھے پاکستان پیپلز پارٹی کے جاننثاروں کے جلو میں انہوں نے جس انداز میں پاکستان بھر کے دورے کیے، اس کے بعد ان کی شخصیت کے اندر پنہاں توانائی اور ولولے پر کسی شک کی گنجائش نہیں ہے، یہ بینظیر کا ایک الگ انداز تھا، ہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران ان کے اسی قسم کے سیاسی جلسوں کی رپورٹنگ کرتے رہے جس میں ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتیں اور ’جئے بھٹو‘ کے نعرے لگائے جاتے تھے۔

1988 میں پہلی مرتبہ میں پاکستان جانے کے بعد یہ جاننا میرے لیے ایک معمہ تھا کہ ایک قدامت پسند اسلامی ملک میں انہیں کتنے لوگ ووٹ دیں گے۔

میں نے جب اپنا یہی سوال لوگوں کے سامنے رکھا تو بہت سے افراد نے مجھے بتایا کہ درحقیقت وہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے ولولہ انگیز شخص کی بیٹی ہونے کے ناطے بینظیر کو ووٹ دے رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے حکم پر پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

وہ اپنے والد کی بیٹی اور ان کی سیاسی جانشین تھیں۔ان کا مزاج تحکمانہ کہا جا سکتا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کا تعلق ایک روایتی جاگیردارنہ خاندان سے تھا۔ دوسری طرف پالیسی سازی کا معاملہ ہو یا اپنے اطراف لوگوں کے انتخاب کا معاملہ، انہوں نے ہمیشہ سیاسی بصیرت پر مبنی فیصلے نہیں کیے۔

اپنے دوستوں کے لیے وہ ’بی بی‘ جبکہ قریبی ساتھیوں کے لیے ’پنکی‘ تھیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران ان کے بعض قریبی سیاسی حلیفوں نے ان پر سیاسی اصولوں سے روگردانی کا الزام لگایا تاہم انہیں تاحال ان گنت ساتھیوں کی اندھی وفاداری حاصل تھی۔

اپنے پہلے دور اقتدار کے دوران انہیں ایسی پہلی وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا کہ جو اپنے عہدے پر رہتے ہوئے ماں بنیں اس دوران انہوں نے سیاست دانوں کے ان چھبتے فقروں کو برداشت کیا جن کا کہنا تھا کہ آئین میں وزیراعظم کو زچگی کی چھٹیاں لینے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔

بینظیر بھٹو اپنے والد کی سیاسی جانشین تھیں

میٹھی اشیا کی دلدادہ بینظیر نے ذرائع ابلاغ میں اپنے بڑھتے کم ہوتے وزن کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات کا بھی اتنی ہی جرات مندی سے سامنا کیا۔ ایک مرتبہ میرے ساتھیوں میں سے ایک نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ایک بار پھر حمل سے ہیں تو انہوں نے اس کی طرف رخ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’میں حمل سے نہیں ہو۔ میں موٹی ہوں اور اگر میں موٹی ہونا چاہوں تو بطور وزیراعظم یہ میرا حق ہے‘۔

اپنی یاداشتوں میں انڈیا کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کو ’نرم اور سخت‘ کے الفاظ سے یاد کرنے والی بھی بینظیر ہی تھیں۔

لِز ڈیوسِٹ نے 1988 میں پاکستان سے بی بی سی کے لیے رپورٹنگ کی، بعد ازاں 1989 سے 1993 کے دوران انہوں نے نامہ نگار کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ اس کے بعد سے وہ پاکستان کے حالات حاضرہ کے بارے میں مسلسل رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔

بینظیر کے بعد کون؟
پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب کون سنبھالے گا
ہنگامے، احتجاج
سارا ملک ہنگاموں کی لپیٹ میں
گڑھی خدا بخش کے سوگوار اور تدفینبےنظیر کی تدفین
گڑھی خدا بخش کے سوگواروں کا حال
بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
اسی بارے میں
اب یہ علم کون اٹھائےگا؟
28 December, 2007 | پاکستان
پاکستان کے لیے اب کیا؟
28 December, 2007 | پاکستان
سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ
28 December, 2007 | پاکستان
زرداری سے مشرف کی تعزیت
29 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد