BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 December, 2007, 18:31 GMT 23:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’الیکشن میں ووٹ نہ ڈالیں‘

نتائج آنے پر احساس ہوگا
News image
 انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر بار بار تنقید کی اور کہا کہ نو جنوری کو الیکشن کے نتائج کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔
عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے الیکشن فراڈ،غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں اور ان کی جماعت اس دن کو یوم سیاہ کے طور منائے گی۔

عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی مجلس عمل کے دو روزہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ وہ آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ووٹ نہ ڈالیں اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے کالی پٹیاں باندھیں اور اپنے گھروں پر کالے جھنڈے لگائیں۔

اس دو روزہ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کی بابت عمران خان کا کہنا تھا اجلاس میں تین نومبر کی غیر آئینی ایمر جینسی کے بعد جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کےلیے شروع ہونے والی تمام تحریکوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا گیا اور آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں کی توثیق کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں عدلیہ کی بحالی تک جدوجہد کو جاری رکھنے کا بھی عزم کیا گیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نظریہ ضرورت کے تحت طاقتور کا ساتھ دینے کی بجائے آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے ڈٹ جانے کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد یہ سب سے بڑا جرم ہے کہ ساٹھ فیصد عدلیہ کو گھر بھیج دیا گیا ہے یہ عدلیہ کا قتل عام ہوا ہے اور اس الیکشن میں شرکت کرنا پاکستان سے غداری ہے کیونکہ یہ اس عدلیہ سے غداری ہے جنہیں صدر مشرف نے غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر انہیں گھروں میں بھیج دیا اور انہیں نظر بند کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جو سیاسی پارٹیاں الیکشن لڑ رہیں ہیں وہ آئین اور قانون کے تحت نہیں بلکہ نظریہ ضرورت کے تحت الیکشن لڑ رہیں ہیں اور عوام کو چاہئیے کہ وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔

عمران خان نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت نوجوانوں کی شمولیت کے لیے دو ذیلی تنظیمیں بنا رہی ہے ایک انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے نام سے اور ایک انصاف یوتھ کے نام سے۔

عمران خان نے کہا کہ پارٹی کی مجلس عمل کے اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور مہنگائی کی مذمت کی اور ان کی جماعت آٹے کی قیمت میں تین گنا اضافے اور عدم دستیابی کو عوام کے معاشی قتل کے مترادف سمجھتی ہے۔

عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز گروپ کے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر بار بار تنقید کی اور کہا کہ نو جنوری کو الیکشن کے نتائج کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان سیاسی جماعتوں کے رہنما خود کہتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہو گی لیکن پھر بھی وہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

عمران خان کے مطابق الیکشن میں حصہ نہ لینے والی جماعتیں لوگوں کو اس فراڈ سے آگاہ کرنے کے لیے جلسے کر رہی ہیں۔

تیس دسمبر کو کراچی میں اکتیس کو پشاور میں دو جنوری کو کوئٹہ میں چار جنوری کو راولپنڈی میں اور پانچ جنوری کو لاہور میں جلسے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ باقی سیاسی جماعتوں کو بھی الیکشن کمپین کی بجائے الیکشن کے خلاف جلسے کرنے چاہیئں کیونکہ پی سی او کے تحت ہونے والے یہ الیکشن غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد تمام پارٹیاں دھاندلی کا رونا روئیں گی اور پھر کہیں گی کہ اے پی ڈی ایم والے صحیح تھے۔

عمران خان نے صدر مشرف پر بھر پور تنقید کی اور کہا کہ وہ پاکستان کے حسنی مبارک بننا چاہتے ہیں تاکہ اس خطے میں بھی صدر بش کے مقاصد کی تکمیل ہو سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد