BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 September, 2007, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمران: نااہلی کا ریفرنس مسترد

عمران خان (فائل فوٹو)
الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلے میں کہا کہ عمران خان کے خلاف دائر ریفرنس قابلِ سماعت نہیں ہیں
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر نااہلی کے دو ریفرنسوں کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

بدھ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق کی سربراہی میں قائم الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف دائر ریفرنس قابلِ سماعت نہیں ہیں۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور ایم کیو ایم نے عمران خان کے خلاف نااہلی کے ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے تھے اور الیکشن کمیشن نے ان ریفرنسوں کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فیصلہ انتیس اگست کو محفوظ کرلیا تھا۔ ان ریفرنسوں کی آخری سماعت پر دلائل دیتے ہوئے عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا تھا کہ یہ ریفرنس قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ان میں جو الزامات لگائے گئے ہیں، وہ سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کے ہیں اور اب اس وقت یہ ریفرنس دائر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی عوامی نمائندگی کا ایکٹ ان پر لاگو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنس الیکشن کے پنتالیس دن کے اندر فائل کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف جو ریفرنس دائر ہوئے ہیں وہ نااہلیت کا نہیں بلکہ اہلیت میں مقررہ معیار سے کمی کا ریفرنس ہیں اس لیے یہ ریفرنس الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت میں نہیں آتے۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار کی طرف سے حبیب الرحمن ایڈووکیٹ نےاس ریفرنس کے حق میں دلائل دیتے ہوئے متعدد فیصلوں کے حوالے دیے جس میں الیکشن کے پینتالیس روز بعد بھی ارکان اسمبلی کو عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔

 وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور ایم کیو ایم نے عمران خان کے خلاف نااہلی کے ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے تھے اور الیکشن کمیشن نے ان ریفرنسوں کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فیصلہ انتیس اگست کو محفوظ کرلیا تھا

واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف ایک ریفرنس امریکہ کے شہر لاس اینجلس کی ایک عدالت کی جانب سے دیے گئے اُس فیصلے کی بنا پر دائر کیا گیا ہے جس میں تیس جولائی انیس سو ستانوے کو عدالت نے کہا تھا کہ عمران خان سیتا وائٹ کی بچی کے والد ہیں۔

ایم کیو ایم نے یہ ریفرنس آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ اور عوامی نمائندگی کے 1976 کے قانون کے تحت دائر کیا تھا۔ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ آئین کی متعلقہ شقوں اور قانون کے تحت غیر ازدواجی جنسی تعلقات رکھنے والا کوئی بھی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا۔

عمران خان اور ایم کیو ایم میں تنازعہ بارہ مئی سے اس وقت شروع ہوا تھا جب کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر پُرتشدد واقعات ہوئے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایم کیو ایم اس کی تردید کرتی ہے۔

عمران خان نے ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین پر بارہ مئی کے واقعات کا الزام لگا کر برطانوی حکومت سے انہیں ملک بدر کرنے اور ان کی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر الیکشن کمیشن نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے خلاف نااہلی کے ریفرنس کی سماعت بارہ ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ قانون کے مطابق سپیکر ریفرنس موصول ہونے کے تیس دن کے اندر اسے چیف الیکشن کمشنر کو بھجوانے کا پابند ہے۔ چیف الیکشن کمشنر ریفرنس الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے گا اور کمیشن چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس موصول ہونے کی تاریخ کے تین ماہ کے اندر فیصلہ دینے کا پابند ہوگا۔

عمران خانعمران کا مقدمہ
’لڑائی مہاجروں سے نہیں الطاف سے ہے‘
اسی بارے میں
عمران خان لندن پہنچ گئے
02 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد