بینظیر بھٹو کو عمران کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان نے بے نظیر بھٹو کو یقین دلایا ہے کہ وہ عدلیہ کی بحالی کے لیے اگر الیکشن بائیکاٹ میں حصہ لیں گی تو وہ کوشش کریں گے کہ ان کے خلاف کرپشن کے زیر التوا مقدمات معاف ہو جائیں۔ یہ بات عمران خان نےلاہور کے علاقے اچھرہ میں متحدہ طلبہ محاذ کے زیر اہتمام ہونے والے طلبہ کنونشن سے خطاب کے دوران کہی۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں بےنظیر بھٹو کو پیغام دیا کہ اگر انہیں یہ فکر ہے کہ عدلیہ بحال ہونے کے بعدان کے خلاف کرپشن کے مقدمات کی سماعت شروع کردے گی تو وہ ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ پوری کوشش کریں گے کہ ان کے کیس معاف ہوجائیں۔ عمران نے کہا کہ ’میں خود تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جاؤں گا انہیں رضامند کروں گا اور بینظیر سے کہوں کہ ہم تمہاری کرپشن معاف کردیں گے لیکن ایک شرط پر کہ آپ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہمارے ساتھ مل کر لڑیں اور اس ملک کی نئی نسل کا سوچیں اور ہمارے ساتھ مل کر پرویز مشرف کی جو اتنی بڑی سازش ہے، اسے ناکام کریں اور انتخابات کا بائیکاٹ کریں‘۔ عمران خان نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف بھی بات کی اور ان کے لیے ’میر جعفر‘ کا لفظ استعمال کیا۔ انہوں نےکہا کہ جب عدالتیں ایک ڈکٹیٹر کی غلام بنتی ہیں تو ساری قوم غلام بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ جو چاہے کر لیں وہ ان کے ججوں کو کبھی نہیں مانیں گے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر عدالتیں آزاد ہوتیں تو سابق وزیراعلی پرویز الہی صرف اس وجہ سے جیل میں ہوتے کہ انہوں نے اپنی ذاتی تشہیر کے لیے قوم کے اٹھارہ سو کروڑ روپے اشتہارات کی مد میں خرچ کیے۔
عمران خان نے کہا ٹی وی پر چلنے والے جن اشتہارات میں پرویز الہی احساس کی ضرورت پر زور دیتے رہے وہ دراصل قوم کا پیسہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عدلیہ کی کوئی حثیت نہیں ہےاور اصل عدلیہ کی بحالی کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ عمران خان جس متحدہ طلبہ محاذ کے کنونشن سے خطاب کررہے تھے یہ وہی ہے جس کی دعوت پر وہ پنجاب یونیورسٹی گئے اور پھر اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ ان کے ساتھ برا سلوک ہواتھا لیکن ان کے عزائم اور مقاصد بہت بلند ہیں جن کے سامنے ان کی گرفتاری کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ انہوں نے طلبہ پر بھی زور دیا کہ وہ اس مسئلہ کو بھلا کر صرف جمہوریت کی جدوجہد کریں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سٹوڈنٹس فار ڈیموکریسی (طلبہ برائے جمہوریت) کے نام سے ایک تنظیم بنائیں اور جمہوریت کی جنگ لڑنا شروع کریں کیونکہ ان کے بقول اسی سے ملک کی تقدیر بدلے گی۔ قبل ازیں لاہور کے لبرٹی چوک میں مختلف تعلیمی ادارے کے طلبہ وطالبات اساتذہ، وکلاء اور سول سوسائٹی کے اراکین نے صدر مشرف کے خلاف اور عدلیہ کی بحالی کے لیے حتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے لبرٹی کے گول چکر کے گرد انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی اور گرین بیلٹ کے اندر مارچ کی۔اس موقع پر طلبہ اور دیگر افراد نے خطاب کیا اور کہا کہ عدلیہ کی دو نومبر کی پوزیشن بحال کیے بغیر ایمرجنسی اور پی سی او کا خاتمہ ایک بے معنی اقدام ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جب تک عدلیہ بحال نہیں ہوگی پاکستان میں کسی کو شہری یا سیاسی حقوق نہیں مل سکتے۔مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں عمران خان جیل بھیج دیے گئے، ایمرجنسی مخالف مظاہرے جاری14 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال19 November, 2007 | پاکستان عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج16 November, 2007 | پاکستان عمران ایک مہینے کے لیے جیل میں17 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||