مشرف تمام مسائل کی جڑ ہیں: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کےسربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات غیر متنازعہ نہ ہوئے تو اس کے ملکی سالمیت اور وفاق پر تباہ کن اثرات ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر الیکشن میں دھاندلی عوام کے جذبات کو آگ لگانے والی بات ہوگی۔ لاہور میں مسلم لیگ نون کی سنیٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدر مشرف کو ملک کے تمام مسائل کی جڑ قرار دیتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو دہرایا اور کہا کہ جب تک وہ اقتدار میں رہیں گے ملک تباہی کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کی جا رہی ہے، مسلم لیگ نون کے کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور ہر حلقے سے ہزاروں کی تعداد میں پوسٹل بیلٹ پیپر جاری ہوئے ہیں۔ میاں نواز شریف نے انتخابات کے منصفانہ ہونے کو ملکی سالمیت کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف انتخابات میں ایک فریق ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد وہ سندھ کے زخموں پر مرحم رکھ رہے ہیں اور مسلم لیگ قاف کے چودھری صاحبان غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر کے انہی زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے بیانات وفاق کی بقا کے لیے تباہ کن ہیں۔
نواز شریف نے صدر مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار پر تنقید کی اور کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ، آٹے کا بحران، مہنگائی کا طوفان اور سٹیٹ بنک کی حالیہ رپورٹ ان کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشرف کے آٹھ سالہ دور میں چودہ سو ارب روپے کے قرضے لیے گئے اور ایک سو ارب روپے کے قرضے معاف کردیے گئے۔ان کے بقول معاف کیے جانے والے قرضوں میں چودھری صاحبان کے قرضے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مشرف نے پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری غیروں کے پاس گروی رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کسی کوواویلا کرنے یا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایٹمی پروگرام کی کنٹرول اورکمانڈ کا نظام خود انہوں نے اپنے وزارت عظمی کے دور میں بنایا تھا اور وہ جانتے ہیں کہ یہ فول پروف ہے اور اب بھی قائم ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان میں غیر ملکی فوجوں کی آمد کے خلاف ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی سالمیت، خود مختاری اور اس وقار کو بحال کریں گے جو ان کے بقول صدر مشرف نے غیروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کےصدر شہباز شریف، چئرمین راجہ ظفر الحق، سیکریٹری جنرل ظفراقبال جھگڑا اور چاروں صوبوں کے صدور سمیت تریسٹھ اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بینظیر بھٹو کی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ |
اسی بارے میں ’التوا انتہائی افسوسناک اقدام‘02 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان اٹھارہ فروری بہت دور ہے03 January, 2008 | پاکستان بینظیر کی نشست پر انتخاب ملتوی04 January, 2008 | پاکستان بائیکاٹ پر قائم ہیں: اے پی ڈی ایم01 January, 2008 | پاکستان انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان08 December, 2007 | پاکستان انتخابات کا بائیکاٹ: نواز شریف27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||