پاکستان مسلم لیگ کا اشتہار اور قومیتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جمعہ کے اخبارات میں پاکستان مسلم لیگ(ق) کا ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’پورے پاکستان اور خصوصاً سندھ میں تشدد اور لاقانونیت کے حالیے واقعات میں متاثر ہونے والے ہم وطنوں کے ساتھ ہے‘۔ اس کے بعد کہا گیا ہے کہ سندھ کے ہنگاموں میں جو پنجابی، مہاجر، پٹھان اور بلوچ آبادکار متاثر ہوئے ہیں وہ مسلم لیگ کے امدادی سیل سے رابطہ قائم کریں۔ اشتہار میں تمام قومیتوں کا ذکر ہے سوائے سندھیوں کے۔ مسلم لیگ ق سندھ کے سیکرٹری جنرل نادر اکمل لغاری نے کہا کہ انہوں نے یہ اشتہار نہیں دیکھا لیکن جس نے اس طرح کا اشتہار دیا ہے بہت غلط کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ق کے سینیٹر اور ریلیف سیل کے ایک ذمہ دار کامل علی آغا نے کہا کہ جب لفظ ’ہم وطنوں‘ استعمال ہواتواس میں پہلی ترجیح سندھیوں کی ہے۔ اسی اشتہار کے تناظر میں بی بی سی اردو سروس کے کاشف قمر نے جب کامل علی آغا سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ سیل کا کام بیان کیے گئے متاثرین کی معاونت کرنا ہے تاکہ وہ جنرل مشرف کے قائم کردہ خصوصی کمیشن سے نقصانات کا معاوضہ لے سکیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ اگلا جملہ ان کے دعوے کی نفی کر رہا ہے اور سندھیوں کا باقی قومیتوں کے ساتھ ذکر نہیں تو کامل علی آغا نے پھِر کہا کہ ہموطنوں میں سب سے پہلے سندھی آتے ہیں جو بانی پاکستان بھی تھے۔ جب ان کی توجہ اشتہار میں کسی اخبار کی ایک خبر کے حوالے کی طرف دلائی گئی جس میں بارہ لڑکیوں کی ’گوٹھوں اور ندی نالوں‘ میں اجتماعی زیادتی کا ذکر تھا اور پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس کی تصدیق کی تھی تو انہوں نے کہا کہ وہ اخباری خبروں کو سچ مانتے ہیں اور میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ کامل علی آغا سے سوات میں بے گھر ہونے والوں کے بارے میں بات کے دوران پوچھا گیا کہ اگر ان کی جماعت نے اس وقت بھی ایسا ہی رد عمل دکھایا تھا تو اس کا اشتہار کب شائع ہوا تو ٹیلیفون بند ہو گیا۔ دوسری جانب ق لیگ کے صوبۂ سندھ میں جنرل سیکریٹری نادر اکمل لغاری نے پارٹی کی جانب سے شائع کرائے گئے ایسے اشتہاروں کی کھلے الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وہ یہ معاملہ جماعت کی اعلٰی قیادت کے سامنے بھی اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کی جماعت تمام گروپوں کے ساتھ ملک کر پاکستان کے استحکام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس نے اس طرح کا اشتہار دیا ہے بہت غلط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر قومیتوں کی بنیاد پر اپنے آپ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہ وہ خود بلوچ ہیں اور سندھ میں بلوچوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ جب ان سے مزید سوال کیا گیا تو انہوں نے کہ ’مجھے اس کے بارے میں معلوم نہیں اور میں اس کے حق میں نہیں ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو اپنی جماعت کی مرکزی قیادت کے سامنے اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو قومیت کی بنیاد پر تو نہیں تقسیم کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے ہاتھوں بینظیر بھٹو کی ہلاکت جیسی بزدلانہ حرکت کے بعد ’مجرمانہ عناصر‘ نے نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور اس میں غریب لوگوں کا بھی بہت نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’جرائم پیشہ عناصر نے بے نظیر بھٹو کی ہلاکت پر لوگوں کے جذبات کا فائدہ اٹھایا۔ اس صورتحال میں قومی یکجہتی پر مسلم لیگ کے کردار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں جماعت کا سوال نہیں بلکہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس میں ’ہم امن اور محبت کا ہی پیغام دیں گے‘۔ | اسی بارے میں بینظیر کی نشست پر انتخاب ملتوی04 January, 2008 | پاکستان ’اپنے ہی شہر اجنبی بن گئےتھے‘04 January, 2008 | پاکستان نقصان کے تخمینے کے لیے کمیشن قائم 05 January, 2008 | پاکستان دیکھتے دیکھتے احتجاج پورے صوبے میں پھیل گیا04 January, 2008 | پاکستان پولیس افسروں کے بیانات قلمبند03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||