’اپنے ہی شہر اجنبی بن گئےتھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کے قتل کے خلاف پر تشدد احتاج کے بعد سندھ کے دوسرے شہروں کی طرح سکھر اور لاڑکانہ میں بھی زندگی معمول پر واپس آ رہی ہے۔ مگر شہروں کے کئی حصے کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں اور لوگ رک رک کر ان عمارات اور گاڑیوں کو دیکھ رہے ہیں جنہیں ہنگاموں کے دوران نذر آتش کیا گیا تھا۔ سکھر ائرپورٹ روڈ پر ابھی تک وہ چھ بڑے ٹرالر پڑے ہیں جو میری آنکھوں کے سامنے گزشتہ جمعرات کی شام جلائے گئے تھے۔اس سڑک پر اب معمول کےمطابق ٹریفک رواں دواں ہے مگر مجھے وہ رات یاد آرہی ہے جب میں چار گھنٹے دیگر مسافروں کے ساتھ سڑک کنارے ہوٹل میں پھنسا رہا۔ ستائیس دسمبر کی شام ٹی وی پر بینظیر بھٹو کی راولپنڈی میں تقریر سننے کے بعد سکھر شہر کے باہر ایک ہوٹل کی طرف چائے کی تلاش میں روانہ ہوا۔
ہوٹل کے قریب پہنچا ہی تھا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ کےزخمی ہونے کی اطلاع ملی۔ہوٹل کی طرف جانے کا ارداہ ترک کیا اور بینظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ کی طرف روانہ ہوا۔ابھی آدھے گھنٹے کا سفر بھی طے نہیں کیا تھا کہ سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور اور جیکب آباد سے دوستوں کے فون آنا شروع ہوئے کہ ان کہ شہروں میں ہنگامے اور فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ ہنگاموں کی اطلاعات ملنے کے بعد میں نے واپس سکھر جانے میں عافیت سمجھی۔سکھر ائرپورٹ روڈ کراس کرنےکے بعد سڑک سنسان نظر آنے لگی۔میں نےاپنا سفر جاری رکھا۔اور شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ملٹری روڈ پر ایک جلوس مل گیا۔ لالچ آیا اور چند آوازیں ریکارڈ کرنے اور چند تصایر بنانے کی کوشش میں رک گیا۔ ڈرائیور کو پیچھے کی طرف جانے کا اشارہ کیا مگر ہاتھ میں لاٹھیاں اٹھائے مشتعل لڑکوں کا جلوس میری کار کی طرف بھاگنے لگا اور انہوں نے ڈرائیور کو گلے سے پکڑ کر گاڑی سے اتارا۔ میں دوڑتا ہوا مشتعل لڑکوں کے پاس پہنچا۔اپنا تعارف کروایا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ان کی آنکھوں میں صرف آگ تھی اور انہوں نے پہچاننے سے انکار کردیا۔ایک لڑکے نے کہا میڈیا کی کوریج ہمیں محترمہ کے لیے ضروری تھی، اب وہ نہیں رہیں تو ہمیں کسی کوریج کی ضرورت نہیں۔ ان مشتعل لڑکوں کا کوئی سربراہ نہیں تھا۔ان میں شہر کا کوئی نامور سیاسی کارکن شامل نہیں تھا۔ان لڑکوں نے میری کار کے شیشے توڑے ،کار کے دروازوں اور چھت پر لاٹھیاں برسائیں۔میری منتوں کے بعدانہوں نے گاڑی جلانے کا اپنا ارداہ ترک کیا اور سامنے چوراہے کی طرف بڑھنے لگے ۔ ان کادعوی تھا کہ انہوں نے ملٹری روڈ پر پیٹرول پمپ جلادیا ہے اور دکانوں کو آگ لگادی ہے۔ ڈیڑھ سو کےقریب ان مشتعل نوجوانوں کی عمریں دس سے بیس سال کے درمیاں تھیں۔انہوں نے سکھر بائی پاس کے قریب کوئٹہ اور ائرپورٹ جانے والی سڑک پر نعرے مارے اور وہاں کھڑے ٹرالرز کو آگ لگادی۔ٹرالر ڈرائیورز نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ناز بائی پاس ہوٹل میں پناہ لی جہاں خواتین سمیت سینکڑوں مسافرین پھنسے ہوئے تھے۔ یہ پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنماء کا ہوٹل ہے اور جلوس شاید اس وجہ سے ہوٹل کے سامنے تو موجود رہا مگر ہوٹل کے اندر داخل ہونے سے گریز کیا۔ اس کے بعد دوسرے ٹرالر کو آگ لگائی گئی۔ٹرالرز کے ٹائر آگ لگنے کے بعد جب دھماکوں سے پھٹنے لگے تو لڑکے نعرے مار کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سکھر بائی پاس پر چھ ٹرالرز کو آگ لگادی گئی ۔آگ کے بڑے بڑے شعلے نکلنے لگے۔ ان شعلوں کے قریب جب لڑکے جاتے تو وہ سائے کی طرح نظرآتے،ایسے سائے جن کی کوئی پہچان اور کوئی شکل نہیں ہوتی۔
ستائیس دسمبر کی شام پورا سندھ ایسے سایوں کے ہاتھ میں تھا۔سڑکوں پر کوئی فوج، پولیس یا رینجرز نہیں تھے۔لوگوں کی املاک اور جانیں ایسے ہی مشتعل سایوں کے رحم و رکم پر تھیں۔ ٹرالرز کی آگ ابھی بجھی نہیں تھی کہ قریبی دیہاتوں اور محلوں سے چند مشکوک لوگ نکلے۔ انہوں نے ٹرالرز میں سے سامان لوٹنا شروع کیا۔ہوٹل کے تمام مسافروں میں خوف تھا کہ یہ لوٹ مار ہمارا رخ نہ کر لے۔ میں ہوٹل سے نکل کر سڑک پر آگیا اور جلے ہوئے ٹرالرز کے ساتھ لوٹ مار کرنے والے افراد کی تصاویر بنانے کی کوشش کی مگر کیمرے کے ایک فلیش کے بعد لڑکے سامان چھوڑ کر میری طرف بڑھے۔ہماری تصویر کیوں بنا رہے ہو، پولیس کو دکھاؤگے؟ سڑک پر اب ان کی مرضی چل رہی تھی۔ یہ گمنام سپاہی چور بنے جا رہے تھے۔ میں نے کیمرہ بیگ میں ڈال دیا اور ہوٹل مینجر کی مدد سے اپنی جان بچالی۔ ستائیس دسمبر کی شام اب ڈھلنے لگی تھی، سردی بڑھ رہی تھی اور نعروں کی آواز اور غصے میں کمی آرہی تھی۔اب تمام توجہ ٹرالرز کا سامان لوٹنے پر مرکوز تھی۔ رات کو گیارہ بجے کے قریب پولیس کی گاڑی آنے کے سائرن سنائی دیے۔وہ پولیس نہیں رینجرز تھے۔انہیں دیکھ کر لوٹ مار کرنے والے لوگ ٹرالرز کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ کر ایک نوجوان کارکن نے بری بری گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو صاحبہ کے لیے تمہارا دل نہیں جلتا تم لٹیرے اور بزدل ہو۔شرم کرو، باہر نکلو، کیا کریں گے یہ رینجرز۔وہ تنہا جلے ہوئے ٹرالروں کے درمیاں رینجرز ،فوج اور مشرف مخالف نعرے لگاتا رہا مگر لوٹ مار والے افراد نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ اسی دوران میرے دو موٹر سائکل سوار دوست بائی پاس پہنچے۔شہر میں گاڑی داخل نہ لےجانے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لیا اور ہم شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ سکھر کی ہر سڑک پر جلی ہوئی گاڑیاں، بڑے بڑے پتھروں کی رکاٹیں اور دکانوں کا سامان جل رہا تھا۔اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا تقسیم ہند کے وقت بھی سکھر کو ایسے ہی جلا گیا تھا ۔ ایک جلوس بیراج روڈ پر مل گیا۔ میرے دوستوں نے انہیں بتایا پریس والے ہیں، آپ کے لیے آئے ہیں۔ تب جا کر انہوں نے راستہ دیا اور ہم ایک بجے کے قریب گھر پہنچے۔ ہنگاموں کے دوران ستائیس دسمبر گزر گیا۔مگرسکھر میں گجرات اور بیروت جیسے مناظر دکھا کر گیا۔رات کو تین بجے میں نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا تاکہ نوڈیرو اور گڑھی خدابخش میں بینظیر بھٹو کا آخری سفر دیکھ سکوں۔یہ خاموشی اور خوف کا سفر تھا، اپنے ہی شہروں میں جو اچانک اجنبی بن گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’ہنگاموں میں اکاون لوگ ہلاک ہوئے‘02 January, 2008 | پاکستان پرتشدد احتجاج میں کمی30 December, 2007 | پاکستان ’فوج استعفٰی دینے پر مجبور کرے‘03 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||