BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 January, 2008, 00:46 GMT 05:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اٹھارہ اکتوبر کے عینی شاہد

غنی کو بینظیر بھٹو کا ٹرک چلانے کے چنا گیا تھا
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو پر اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے بم حملے کے ایک عینی شاہد کے مطابق اٹھارہ اکتوبر کو بھی بے نظیر بھٹو کی گاڑی پر بم حملے سے پہلے فائرنگ ہوئی تھی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو پر ہونے والا خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ بم دھماکے سڑک پر کھڑی کار اور پولیس گاڑی میں ہوئے تھے۔

یہ عینی شاہد 45 سالہ عبدالغنی بلوچ ہیں جو اٹھارہ اکتوبر کو اس ٹریلر کے ڈرائیور تھے جس پر بے نظیر بھٹو سوار تھیں۔ اس ٹریلر کو خصوصی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی نگرانی میں بھاری لاگت سے تیار کیا گیا تھا اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ بلٹ اور بلاسٹ پروف تھا یعنی اس پر گولی یا بم کا اثر نہیں ہوسکتا تھا اسی بناء پر بے نظیر بھٹو اس حملے میں محفوظ رہی تھیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں وہ بھی زخمی ہوگئے تھے اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیشہ ور ڈرائیور ہیں اور بے نظیر بھٹو کے لئے بنائے گئے ٹریلر کو چلانے کے لئے ان کا انتخاب پارٹی رہنماؤں نے کیا تھا۔ ان کے مطابق انہیں بتادیا گیا تھا کہ انہیں اٹھارہ گھنٹوں تک ٹریلر چلانا پڑسکتا ہے اور وہ اس کے لئے پوری طرح تیار تھے۔


انہوں نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے اس ٹریلر پر سوار ہونے سے قبل انہیں بتایا گیا تھا کہ پولیس کی دو دو موبائیلیں ان کی گاڑی کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں چلیں گی اور اگر کہیں کوئی گڑبڑ ہوگی تو انہیں فوری طور پر آگاہ کردیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریلر میں بے نظیر بھٹو کے لئے ایک کمرہ بنایا گیا تھا اور ایک لفٹ بھی تیار کی گئی تھی تاکہ بے نظیر بھٹو اسکی مدد سے ٹریلر کی چھت پر آجاسکیں۔

’جب جلوس ڈرگ روڈ پہنچا، تو بے نظیر صاحبہ لفٹ کی مدد سے نیچے کمرے میں چلی گئی تھیں ابھی (انہیں گاڑی کے اندر گئے) پندرہ منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ بم دھماکہ ہوا، شیشے ٹوٹے جو ہمیں یہاں (چہرے پر) لگے، ہمارے کان بند ہوگئے اور اس سے پہلے فائر ہوا، پہلے فائر آئے اسکے بعد دھماکہ ہوا۔‘

انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے تھے اور ہر طرف افراتفری تھی۔ ’ہم سے چلا نہیں جارہا تھا، پہلے دھماکے کے بعد ہم زخمی حالت میں گاڑی سے اتر کر تھوڑی دور جاکر کھڑا ہوگیا اور چند سیکنڈ بعد دوسرا دھماکہ ہوگیا۔‘

عبدالغنی نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد ان کے پارٹی کے ساتھیوں نے بے نظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نکالا اور بلاول ہاؤس پہنچایا۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکوں سے پہلے جائے واقعہ پر اسٹریٹ لائٹس بند تھیں اور جیسے ہی دوسرا دھماکہ ہوا تو لائٹس جل گئی تھیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک خودکش حملہ تھا، انہوں نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا کہ ’نہیں وہ خودکش حملہ نہیں تھا۔‘

اس سوال پر کہ وہ کس بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’خودکش حملہ ہوتا تو کارساز کے پل سے بھی کوئی خودکش حملہ کرسکتا تھا کیونکہ ہماری گاڑی پل سے بالکل ٹچ کررہا تھا۔ وہاں ایک کار کھڑا ہوا تھا جس میں کوئی آدمی نہیں تھا دھماکہ اس میں ہوا اور اسکے بعد پولیس موبائیل میں ہوا۔‘

’وہ سفید رنگ کا ایک کار تھا جسے جلوس میں شامل ہمارے لوگوں نے دھکادیکر ہٹانے کا بھی کوشش کیا لیکن جلوس میں اتنے لوگ تھے کہ وہ سب آگے آگئے تھے اس لئے اسے ہٹا نہیں سکے۔‘

’دوسرا دھماکہ جب ہوا تو ہم نے خود دیکھا کہ پولیس کا موبائل گاڑی اچھلا تھا اور اس میں آگ لگ گیا تھا۔‘

عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد وہ گاڑی اس لئے بھگا کر نہیں لے جاسکے کہ اسکے ٹائر پھٹ چکے تھے اور اسکے اطراف لوگوں کا ہجوم تھا۔ ’اس لئے ہم نے گاڑی بھگانے کا کوشش نہیں کیا، اگر بھگاتا تو ہمارے سامنے آدمی بہت تھا وہ گاڑی کے نیچے آجاتے۔‘

بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنبینظیر: ٹائم لائن
جلاوطنی، حکومت، جلاوطنی، قتل
آصف زرداری کا سفرآصف زرداری کا سفر
پیپلز پارٹی کی سٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے
بھٹو کے جانشین
انکا بیٹا اور شوہر پارٹی کی قیادت کر سکیں گے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد