’فوج استعفٰی دینے پر مجبور کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے افواج پاکستان سے صدر پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایک دوسری تنظیم نے عام انتخابات کے التواء کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ برسلز میں قائم ایک تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایشیا پروگرام ڈائریکٹر رابرٹ ٹیمپلر نے ایک بیان میں کہا کہ شدت پسندی کو روکنے اور پاکستان میں استحکام کے لیے جمہوریت ایک غیر مقبول جنرل سے زیادہ ضروری ہے۔ دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کے علی دایان حسن نے ایک بیان میں عام انتخابات کے التواء کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس سے صدر مشرف کی حامی سیاسی جماعتوں کے لیے قبل از انتخاب دھاندلی کا امکان بڑھا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل سے قبل اس نے وسیع پیمانے پر حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر مسلم لیگ (ق) کے لیے قبل از انتخاب دھاندلی کی تفصیلات جمع کی تھیں۔ علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کی صاف و شفاف انتخابات منعقد کرانے کا دعویٰ متنازعہ ہے۔ ’بےنظیر کے قتل کے بعد ان کی ملک کو جمہوری راہ پر ڈالنے کے ارادے اور صلاحیت پر سوالیہ نشان لگے ہیں۔‘ دوسری جانب انٹر نیشنل کرائسس گروپ کا کہنا تھا کہ اگر صدر مشرف کا رضاکارانہ استعفی ان کی حمایت کے واحد حلقے یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بہتر ہے۔ اس سے گروپ کے خیال میں وہ عوامی تنقید سے بچ پائے گی۔ صدر مشرف پر کڑی نکتہ چینی کرنے والی’ آئی سی جی‘ نے خاص کر امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پر قومی مصالحت کی خاطر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ آئی سی جی کا ، جس کا امریکی کانگرس کے اندر بھی کافی اثر و رسوخ ہے، موقف ہے کہ یہ خدشات کہ مشرف کے مستعفی ہونے سے امن عامہ کی صورتحال بگڑ سکتی ہے بے بنیاد ہیں۔ ’صدر مشرف کی حمایت جاری رکھنے سے مغربی ممالک ناصرف پاکستانیوں کے دل و دماغ کو جیتنے کی جنگ ہار سکتے ہیں بلکہ سولہ کروڑ عوام کے اس ملک کو پرتشدد تنازعے میں الجھا سکتا ہے جس سے صرف انتہا پسندوں کو ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔‘ اس تنظیم کا مطالبہ ہے کہ سینٹ چیرمین محمد میاں سومرو بطور نگران صدر کے چارج سنبھالیں اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد عام انتخابات کی نگرانی کے لیئے ایک عبوری حکومت تشکیل دیں۔ آئی سی جی کا انتخابات کے التوا کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ مناسب ہے تاہم اس نے جمہوریت کی بحالی کے لیئے اقدامات کی ضرورت موجود ہے۔تنظیم نے آئین کی مکنل بحالی، آذاد عدلیہ، انتخابی کمیشن کی تشکیل نو اور منتخب سویلین نمائندوں کو انتقال اقتدار کے مطالبات بھی کیے ہیں۔ صدر پرویز مشرف ماضی میں اس طرح کی تنظمیوں کی تنقید کو بےجا قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||