عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | مولانا فقیر کو اس وقت شہرت ملی جب کہا گیا کہ ایمن الزواہری ان کے مہمان تھے |
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں طالبان سربراہ مولانا فقیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے بغیر محض صدر کے وردی اتارنے سے امن و امان کا قیام ممکن نہیں ہے۔ جمعہ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا فقیر محمد نے کہا کہ طالبان کے لیے ریٹائرڈ جنرل مشرف کا وردی میں ہو نا یا نہ ہونا بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بقول انکے جب تک ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور پاکستان میں موجود ’مجاہدین‘ کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کی جاتیں تب تک ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان انتظار کر رہے ہیں کہ صدر مشرف کے فوجی عہدے سے ریٹائر منٹ کے بعد ’ مجاہدین‘ کے خلاف جاری پالیسی میں کس قسم کی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ صدر مشرف کے وردی اتارنے کے بعد یہ پہلی بار پاکستان کے قبائلی علاقے میں سرگرم کسی طالب کمانڈر کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوات میں مولانا فضل اللہ اور انکے ساتھیوں کی پسپائی کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ علاقے چھوڑنے کے حوالے سے انکی حکمت عملی ’مدبرانہ‘ اقدام ہے جس کا زیادہ فائدہ لڑائی کی زد میں آنے والے شہریوں کو پہنچا ہے۔ مولانا فقیر کے بقول اب حکومت کے خلاف چھاپہ مار جنگ ہوگی۔ اس سوال کے جواب میں کہ مولانا فضل اللہ کی مدد کے لیے دس ہزار جنگجؤوں کے لشکر بھیجنے کے بارے انکا اعلان محض ایک ’ کھوکھلا اعلان‘ ثابت ہوا تو مولانا فقیر کا کہنا تھا کہ ’یہ محض اعلان نہیں تھا بلکہ ہم نے جنگجوؤں کا لشکر تشکیل دے دیا تھا اور اس سلسلے میں سوات جانے کے تمام انتظامات اور راستے کا تعین بھی کر لیا گیا تھا تاہم مولانا فضل اللہ نے ملاقات کے دوران ہمارے ساتھیوں سے کہاتھا کہ انہیں فی الوقت جنگجؤوں کی ضرورت نہیں ہے جس کے بعد ہم نےاپنا لشکر روک لیا‘۔ |