BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 December, 2007, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل جذباتی نہیں ہوتے

جنرل مشرف اقتدار میں رہتےہوئے وردی اتارنے والے فوج کےدوسرے سربراہ ہیں
بالآخر جنرل پرویز مشرف نے وردی اتار دی۔ یوں تو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ گاہے وردی اور گاہے سویلین لباس میں نظر آتے رہتے تھے مگر جاننے والوں کو معلوم تھا کہ پرویز مشرف کی وردی محض لباس کے شخصی انتخاب کا معاملہ نہیں۔

وردی کے اس قصے میں مضمر سیاسی اور آئینی پہلوؤں سے قطعِ نظر اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت کی سیاست کے کھیل میں وردی ایک زبردست استعارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر سنہ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن پاکستان آئے تو اس بات کا کافی چرچا رہا کہ امریکی صدر سے ملاقات میں جنرل پرویز مشرف نے کوٹ پتلون زیب تن کر رکھا تھا۔

سنہ 2003 میں ڈاکٹر قدیر خان سے اُس تاریخی ملاقات کے دوران جنرل پرویز مشرف فوجی وردی میں ملبوس تھے، جس کے بعد ڈاکٹر قدیر نے ٹیلی وژن پر قوم
سے معافی مانگی تھی ۔ سالِ رواں میں نو مارچ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ ملاقات کے بعد اس امر پر خاصی لے دے ہوتی رہی کہ کیمپ آفس پنڈی میں ہونے والی اس ملاقات میں جنرل پرویز مشرف نے وردی کیوں پہن رکھی تھی۔

جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا کی درخواست مسترد کر دی تھی

قصہ یہ ہے کہ فوجی اقتدار ڈنڈے کا کھیل ہے اور فوجی وردی ڈنڈے کا لباسِِ مجاز ہے۔ پاکستان میں چار فوجی سربراہ کل ملا کر 33 برس تک حکومت کر چکے ہیں۔ آزادی کے بعد ساٹھ برس میں یہ دوسرا موقع ہے کہ فوجی حکمران نے دورانِ اقتدار وردی کو خیر باد کہا ہے۔ پہلا موقع ٹھیک 49 برس پہلے تب پیش آیا تھا جب ایوب خان نے از خود فیلڈ مارشل کا رسمی عہدہ سنبھال کر فوج کی کمان جنرل موسٰی خان کے سپرد کی تھی۔

ایوب خان کا ستارہ عروج پر تھا اور موسٰی خان مزاجاً عقب نشین واقع ہوئے
تھے ۔ یوں بھی یہ روایت ابھی پختہ نہیں ہوئی تھی کہ فوج کے ہر سربراہ کو ملک کا آئندہ رہنما تصور کیا جائے۔

تاہم آٹھ برس بعد 1966 میں یحییٰ خان نے موسیٰ خان کی جگہ لی تو جلد ہی واضح ہو گیا کہ یحییٰ خان کے عزائم مختلف تھے۔ 1967 کے اوائل میں ایوب خان کو دل کا معمولی دورہ پڑا تو یحییٰ خان نے انہیں باقاعدہ یرغمال بنالیا۔

انہیں کسی وزیر، افسر حتیٰ کہ اپنے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ مقصد اس مشق کا یہ تھا کہ اگر ایوب خان خالق حقیقی سے جا ملیں تو آئینی طور پر سپیکر قومی اسمبلی کو اقتدار سونپنے کے بجائے یحیٰی خان براہِ راست اقتدار سنبھال سکیں۔ ایوب خان بیماری سے تو جانبر ہو گئے لیکن دو ہفتوں کی اس قید سے اقتدار پر ان کی گرفت جاتی رہی۔

حلف برداری کی تقریب کے بعد

1969 کے ابتدائی مہینوں میں ایوب خان نے یحییٰ خان سے حکومت مخالف تحریک پر قابو پانے کے لیے جزوی مارشل لا کی درخواست کی جو یحییٰ خان نے ترنت ٹھکرا دی۔ مارچ 1969 کی ایک روپہلی صبح یحیٰی خان نے ایوب خان کے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کرنا چاہا۔ ایوب خان نے دس برس پہلے سکندر مرزا کو ڈنڈا ڈولی کیا تھا۔ ان اشاروں کا مطلب خوب سمجھتے تھے۔

انہوں نے تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہا دروازہ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے، جو تم چاہتے ہو وہی ہو گا۔ یہ واقعہ ملک کی اس ان لکھی روایت کا باقاعدہ اعلان تھا کہ صدر پاکستان بھلے فوج کا سابق سربراہ ہی کیوں نہ ہو پاکستان پر اصل حکمران وہ ہوگا، جس کی کمان میں فوج کا کپتان ہوگا۔ فوج کے شیر پر سوار ہو کر اقتدار میں پہنچنے والا شیر سے اترنے کی کوشش کرے گا تو شیر کا اگلا سوار اسے ہڑپ کر جائے گا۔

یحییٰ خان اور ضیا الحق نے یہ سبق سیکھ لیا تھا، دونوں جب تک اقتدار میں رہے انہوں نے وردی اتارنے کا نام نہیں لیا۔ بھلے مشرقی پاکستان کی کشتی ڈوب جائے یا بستی لال کمال کی فضا میں سی 130 پھٹ جائے۔ 29 مئی 1988 کو وزیراعظم محمد خان جونیجو برطرف کیے گئے تو ان پر بنیادی الزام یہ تھا کہ وہ’وردی اتارو‘ مہم کی پس پردہ پشت پناہی کر رہے تھے۔ ادھر سیاستدانوں نے بھی یہ سبق سیکھ لیا کہ فوجی حکمران کو اس وقت تک اقتدار سے نکالنا ممکن نہیں جب تک وہ فوج کا سربراہ ہے۔

سو پہلے مرحلے میں اس کی وردی اتروا کر اسے دانتوں سے محروم کیا جائے تاکہ اسے سیاسی طور پر پچھاڑنے کا امکان پیدا ہو سکے۔ بھلے اس ضمن میں فوج کے نئے سربراہ کے عزائم ہی کو تھپکی کیوں نہ دینی پڑے۔

جنرل پرویز مشرف تک آتے آتے جہاں فوجی حکمرانی کی روایت نے پختگی اختیار کی ہے، وہاں فوجی حکمران کی اندھی طاقت سے نمٹنے کے طور طریقوں میں بھی نفاست آئی ہے۔

پرویز مشرف کے اقتدار کی ابتدا ہی سے وردی اتارنے کے مطالبے کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ اپریل 2002 کا ریفرنڈم ہو یا 17ویں آئینی ترمیم، دسمبر 2004 میں قبائلی شورش کی آڑ میں وردی اتارنے کے وعدے سے انحراف ہو یا عدالت عظمیٰ میں آئینی درخواستوں کے ذریعے وردی سے چھٹکارا پانے کی کوشش یا پھر 3 نومبر کا وہ عبوری آئینی حکم، جس کی طرف صدر مشرف نے بہت پہلے یہ کہہ کر اشارہ دیا تھا کہ’ آخری مکا میں ہی رسید کروں گا‘۔ یہ سب وردی ہی کے شاخسانے تھے۔ سب کرشمے تھے باغ میں گل کے۔

اواخر 1958 کی ایک شام صدر ایوب نے فوج کی کمان جنرل موسیٰ کے سپرد کی تو الوداعی تقریر میں ان کی آواز بھرا گئی۔ ایک اردو اخبار نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا کہ صدر ایوب فوج سے 30 سالہ وابستگی کو خیر باد کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔

اس پر بڑا طوفان اٹھا۔

ایک وردی پوش کرنل نے اخبار کے مدیر کی میز پر ڈنڈا بجاتے ہوئے دھمکیاں دیں۔ گزارش کی گئی کہ اس خبر میں ہونے والی غلطی کی نشاندہی کی جائے۔ کرنل صاحب نے فرمایا ’جنرل جذباتی نہیں ہوتے‘۔

واقعی جنرل جذباتی نہیں ہوتے لیکن وردی اتارنے والا ایوب خان ہو یا پرویز مشرف، جنرل نہیں رہتا، سابق جنرل ہو جاتا ہے، اسی لیے الوداعی تقریروں میں جذبات راہ پا جاتے ہیں۔ جسے اپنے ہاتھوں سے فوج کا ڈنڈا سونپا جاتا ہے، وہ فوج کا نیا جنرل ہوتا ہے اور وہ جذباتی نہیں ہوتا۔

ریٹائرڈ جنرل بھول گئے
لفظ طاقتور جرنیل کے قابو میں نہیں آ رہے تھے
آئین اور آرمی چیف
ساٹھ برس: تیرہ آرمی چیف، چار سویلین صدر
مشرفبدلے بدلے سے۔۔۔
صدر صاحب کی تقریر کے دوران ہم پر کیا گزری
’انکل شکریہ۔۔۔‘’انکل شکریہ۔۔۔‘
افتخار چوہدری کی بیٹی کا ججوں کو خط
اسی بارے میں
بدلے بدلے میرے سرکار ۔۔۔
29 November, 2007 | پاکستان
’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘
30 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد