BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے بیان کا خیرمقدم: امریکہ
پرویز مشرف کا اصرار ہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے
امریکی صدر جارج بش نے پاکستان میں سولہ دسمبر سے ایمرجنسی کے خاتمے کے صدر پرویز مشرف کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

صدر بش نے کہا کہ یہ ’ایک ضروری قدم‘ ہے جس کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر لایا جاسکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر نے پرویز مشرف سے اپیل کی کہ وہ جنوری کے عام انتخابات کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

وائٹ ہاؤس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف پر ایمرجنسی کے خاتمے یا وردی چھوڑنے کے لیے امریکہ کی جانب سے کوئی دباؤ تھا۔

جمعرات کو صدر پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ وہ سولہ دسمبر کو ملک سے ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے خاتمے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


لیکن مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کی دو نومبر والی پوزیشن کی بحالی کے بغیر ہونے والے الیکشن کا حصہ نہیں بنیں گے اور اتحادی جماعتوں کے امیدوار اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ احتجاج کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیں گی۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں رہنماؤں نے ایمرجنسی اٹھانے کے پرویز مشرف کے اعلان سے قبل ہی اپنے کاغذات نامزدگی داخل کردیے تھے۔

انتخابات صاف و شفاف ہوں: جارج بش
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان بطور سویلین صدر حلف اٹھانے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ’میں سمجھتا ہوں کہ حالات اب بہتر ہو گئے ہیں، انتظامیہ اب صحیح پٹری پر چل رہی ہے اور دہشتگردی پر قابو پایا جا چکا ہے۔ اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں ایمرجنسی سولہ دسمبر کو اٹھانا چاہتا ہوں تا کہ انتخابات انتہائی منصفانہ اور شفاف انداز میں ہوں۔‘

اپنے خطاب میں صدر مشرف نے کہا کہ’ملک اب جمہوریت کی راہ پر واپس آگیا ہے۔ میرا انتخاب قانونی طور پر جائز قرار دے دیا گیا ہے اور میں نے بحیثیت صدر حلف لے لیا ہے۔ الیکشن کی تاریخ آٹھ جنوری رکھ دی گئی ہے اور میں اپنے وعدے کے عین مطابق چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہوگیا ہوں۔‘

صدر مشرف نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی پاکستان واپسی سے پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کو انتخابات کے حوالے سے مساوی مواقع دے دیے گئے ہیں اور اب یہ ان دونوں اور دیگر جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کی تیاری کریں اور اس میں حصہ لیں۔

صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کو سیاسی عمل کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ دونوں سیاست دان نوے کی دہائی کے طرِز سیاست کو ترک کر کے مستقبل میں مفاہمتی سیاست کریں گے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدر نے ایمرجنسی اٹھانے کے لیے جس تاریخ کا اعلان کیا ہے وہ عام انتخابات کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس لینے کے ایک دن بعد کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر سیاسی جماعتوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ بائیکاٹ کرتی ہیں تو وہ ہنگامی حالت اٹھانے میں تاخیر بھی کر سکتے ہیں۔

جنرل پرویز مشرفصدر پھر صدر
چیف آف آرمی سٹاف کا دور اقتدار
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
 لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعودفوج اور سیاست
’جنرل کیانی فوج کو سیاست سے الگ رکھیں‘
ریٹائرڈ جنرل بھول گئے
لفظ طاقتور جرنیل کے قابو میں نہیں آ رہے تھے
تیرے آنے کے بعد
نواز شریف کا آناجنرل مشرف کے لیے اچھا یا برا
ڈِیل کا مُوڈ نہیں لگتا
نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی راہیں الگ؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد