BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 December, 2007, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سازش تو ہوئی، مگر کس کے خلاف؟

صدر مشرف
صدر مشرف تین نومبر سے پہلے کے واقعات کو ایک سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں
’یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی سازش تھی۔‘

صدر پرویز مشرف اپنی سنیچر کی تقریر میں بظاہر نہ چاہتے ہوئے بھی یہ جملہ کئی مرتبہ کہہ گئے۔ اگر یہ سازش تھی تو اس کا توڑ بھی انہوں نے ایک فوجی ہونے کے ناطے طاقت کے ذریعے نکال ہی لیا۔ اپنے خلاف سازش تو انہوں نے طاقت کے زور پر ناکام بنا دی لیکن کئی دیگر سازشوں کو کامیاب ہونے کا موقع مل گیا۔

جو وار انہوں نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے کیا اس نے انہیں ملکی تاریخ میں ایک انوکھی جگہ تو دے دی، انہیں صدارت بھی دے دی لیکن اس قوم کو نہ مندمل ہونے والا ایک زخم بھی دیا۔ ایک شخص کی حکمرانی کے لیے ان کے اعتماد کو ایک اور ٹھوس ضرور پہنچائی۔ ہر کوئی پوچھ رہا کہ کیا ایسا ملک ہی ان کی قسمت میں لکھا ہے جہاں قانون اور آئین کو بار بار بےکار سمجھتے ہوئے کھڑکی سے باہر پھینک دیا جاتا ہے؟

سازش شاید ان کے خلاف تھی۔

اور قوم سے زیادہ تو زخم شاید اس کے آئین کے سینے پر لگے ہیں۔ اب ایک اور سہی۔ اگر کسی کو دستور کی اس حالت پر ندامت ہے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا اظہار نگران وزیر قانون نے اس بیان کے ذریعے کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالت کے خاتمے پر آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کر دیا جائے گا۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کیا کسی کو اب آئین کی اصل شکل یاد بھی ہے۔

سازش شاید اس کے خلاف تھی۔

صدر مشرف
صدر مشرف کے لیے اپنے ناقدین کو مطمئن کرنا خاصا مشکل ہو گا

ملک کی عدلیہ وہ نہیں رہی جو تین نومبر سے قبل تھی۔ بات صرف چند یا صرف ایک ’باغی’ جج سے جان چھڑانے کی نہیں پوری عدلیہ کے وقار کی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ آزاد عدلیہ محض ایک عوامی نعرہ ہے، اصل حقیقت یہ ہے کہ جسے آئندہ حکومت میں آنے کا ہلکا سا بھی شک ہے وہ ایسی کوئی آزاد عدلیہ نہیں چاہتا۔ تین نومبر نے آزاد عدلیہ اور آزاد ججوں کا فرق واضع کر دیا ہے۔

سازش تو شاید اس کے خلاف تھی۔

پاکستان کے نجی نیوز چینلز وہ نہیں رہے جو تین نومبر سے قبل تھے۔ عوام کو سیاستدانوں کے قابل تنقید سیاسی داؤ پیچ اور فوج جیسے قومی اداروں کو ان کی اصل ذمہ داریاں سمجھانے والے پروگراموں سے عاری یہ نیوز چینلز کس کام کے۔ خبر تو ان چینلز سے پہلے بھی لوگوں تک پہنچ ہی جاتی تھی اور اب بھی جلد یا بدیر مل ہی جاتی ہے لیکن اس خبر کا پس منظر اور وجوہات اب نہیں دی جاسکتیں۔ یعنی سوچ پر پابندی ہے خبر پر نہیں۔

سازش شاید ان کے خلاف تھی۔

تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ کی بڑی وجوہات میں سے ایک بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو قرار دیا گیا تھا۔ لیکن خودکش حملے ہنگامی حالت کے خاتمے کے روز بھی جاری رہے۔ اس پر قابو پانے کی غرض سے سوات میں فوجی کارروائی کی گئی۔ شدت پسند رہنما تو روپوش ہوگئے، وقتی طور پر غیرفعال ہوگئے لیکن عام شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ شدت پسند تو پھر نکل آئیں گے لیکن ان لوگوں کا نقصان تمام عمر پورا نہ ہوسکے۔

سازش تو شاید ان کے خلاف تھی۔

تین نومبر سے قبل عام انتخابات کی ہر کوئی تیاری کر رہا تھا۔ ہر کوئی اس بات پر متفق تھا کہ چاہے جن حالات میں بھی منعقد ہوں یہ انتخابات انتہائی اہم ہوں گے۔ اہم تو یہ شاید اب بھی ہیں لیکن ان کی اہمیت کم ضرور ہوئی ہے۔ اگرچہ اکثر سیاسی جماعتیں ان میں حصہ لے رہی ہیں لیکن کئی نے دور رہنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وکلاء اور سول سوسائٹی بھی بائیکاٹ کے حق میں ہے۔ ان انتخابات سے متعلق عوامی رائے تین نومبر کے بعد منقسم ہوئی ہے۔

سازش شاید ان انتخابات کے خلاف تھی۔

بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جس لنگڑی لولی جمہوریت کی بساط منٹوں میں لپیٹی گئی تھی اس کی بحالی میں فوج کو اب آٹھ سال لگ رہے ہیں۔ لیکن جس طریقے سے اس منصوبے پر عمل درآمد ہو رہا ہے اس سے ناصرف جمہوریت بلکہ اسے متعارف کرانے والوں پر سے عوامی اعتماد اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس مرتبہ عدم دلچسپی رکھنے والے ووٹروں کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا جاتا۔ لیکن وکلاء اور سول سوسائٹی کے بائیکاٹ سے اب ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

سازش شاید جمہوریت کے خلاف ہی تھی اور ہے۔

فوج کا بیج’ایمرجنسی اور فوج‘
نو میں سے سات خودکش حملوں میں فوج نشانہ
ایمرجنسیایمرجنسی کا عرصہ
ایمرجنسی کے تحت ملک میں کیا کیا ہوا؟
بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں’آئین سے انحراف‘
نئے حلف آئین سے انحراف: معزول ججز
ہیومن رائٹس واچ’عدلیہ بحال کرو‘
آئین کی نام نہاد بحالی ہوئی: ہیومن رائٹس واچ
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
جسٹس( ریٹائرڈ) وجہیہ الدینآئینی ترامیم کے بعد
’ترمیم کے بعد مجرم بھی صدر بن سکتا ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد