عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ایمرجنسی کے دوران ہونیوالے نو میں سے سات خودکش حملوں میں فوج کو نشانہ بنایا گیا |
پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے جب تین نومبر کو ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تو قوم سے اپنے پہلے خطاب کے دوران انہوں نے ایمرجنسی لگانے کی جو وجوہات بیان کیں ان میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے کی وجہ بھی شامل تھی۔ اس تناظر میں اگر بیالیس روز تک برقرار رہنے والی ایمرجنسی کے دوران ہونے والے تشدد میں سے صرف خودکش حملوں کا موازانہ ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے کے بیالیس دنوں میں پیش آنے والے خودکش حملوں سے کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس دوران صرف چار خود کش حملے ہوئے ہیں جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران خودکش حملوں کی تعداد نو تک جا پہنچتی ہے۔ ایمرجنسی سے قبل ہونے والے خودکش حملوں میں تقریباً ایک سو ستر افراد ہلاک جبکہ پانچ سو پچاس سے زائد زخمی ہوئے، جس میں اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں کارساز کے مقام پر پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔
 | جی ایچ کیو کا دروازہ  فوج پر ہونے والے حملوں میں چوبیس نومبر کو راولپنڈی میں واقع حمزہ کیمپ اور جی ایچ کیو کے داخلی دروازے کے پاس ہونے والے خودکش حملے بھی شامل ہیں  |
اس حملے میں کم سے کم ایک سو چالیس افراد ہلاک اور پانچ سو کےقریب زخمی ہوئے تھے۔ تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ہونے والے نو خودکش حملوں میں مجموعی طور پر سو کے قریب افراد ہلاک اور تقریباً ستر سے زائد زخمی ہوئے۔ ایمرجنسی سے قبل ہونے والے چار خودکش حملوں میں سے یکم نومبر کو سرگودھا میں پاک فضائیہ کی ایک بس کو نشانہ بنائے جانے کے سوا باقی تینوں حملوں میں عام لوگوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ہونے والے نو خودکش حملوں میں سے سات میں فوج کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج پر ہونے والے حملوں میں چوبیس نومبر کو راولپنڈی میں واقع حمزہ کیمپ اور جی ایچ کیو کے داخلی دروازے کے پاس ہونے والے دو خودکش حملے بھی شامل ہیں۔ پندرہ دسمبر کو ایمرجنسی ہٹانے سے چند گھنٹے قبل بھی ایک سائیکل سوار خود کش بمبار نے صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں قائم اہم فوجی چھاؤنی میں واقع آرمڈ سروسز سنٹر کے گیٹ کے سامنے خود کو دھماکے کے ساتھ اڑایا، جس کے نتیجے میں حملہ آور، دو فوجی اور تین عام شہری ہلاک جبکہ دس کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ |