خودکش حملے: عراق کے بعد پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں چند ہی ملک ہیں جہاں خود کش حملے کثیر تعداد میں ہو رہے ہیں جیسے عراق، افغانستان اور پاکستان۔ ان ممالک کے علاوہ بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں پہلے اس قسم کے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن اب نہیں ہوتے جیسے سری لنکا جہاں اس سال صرف دو خود کش حملے ہوئے اور اسرائیل جہاں صرف ایک۔ رواں سال میں اب تک سب سے زیادہ خود کش حملے عراق میں ہوئے ہیں جن کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔ اگرچہ افغانستان میں پاکستان سے زیادہ خود کش حملے ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں ہلاکتیں افغانستان سے زیادہ ہوئی ہیں۔ تربیلا غازی میں جمعرات کو ہونے والے خود کش حملوں کے بعد پاکستان میں رواں سال کے دوران اب تک ہونے والے خود کش حملوں کی تعداد اڑتیس ہوچکی ہے جن میں مارے جانے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد ہے۔ اس تعداد میں ریموٹ کنٹرول، راکٹ باری اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں اور ان میں مارے جانے والے شامل نہیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں اس سال ہونے والے خود کش حملوں کی تعداد ایک سو تین ہے جن میں دو سو پچیس ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان میں بین الاقوامی اور افغان افواج کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن زیادہ تعداد شہریوں کی ہے۔ پاکستان میں خود کش حملوں کا نشانہ بننے والوں کو تین بڑے درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: شہری اور حکومتی، فوجی اور سیکورٹی اہلکار اور پولیس۔ ان میں سےگیارہ حملوں میں شہریوں اور حکومتی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا جن میں دو سو سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔ لگ بھگ بیس حملے فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر ہوئے جن میں سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ پولیس پر سات حملے ہوئے جن میں تیس سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
شہری اور حکومتی دفاتر پر بڑے حملوں میں سترہ فروری کو کوئٹہ میں سینئر سول جج کی عدالت پر ہونے والا حملہ سرِ فہرست ہے جس میں سول جج اور چھ وکلاء سمیت سترہ افراد ہلاک ہوئے۔ اٹھائیس اپریل کو وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ کے حلقہ انتخاب چارسدہ میں، ان کے جلسے پر خودکش حملہ ہوا جس میں کم سے کم اکتیس افراد ہلاک ہوئے۔ پندرہ مئی کو پشاور کے مرحبا ہوٹل میں پچیس افراد ہلاک ہوئے اور انیس جولائی کو حب میں ہونے والے حملے میں تئیس شہری اور سات پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ فوج پر ہونے والے حملوں میں سے بارہ حملے قبائلی علاقوں میں فوج اور سکیورٹی اہلکاروں پر ہوئے لیکن زیادہ نقصان ان حملوں میں ہوا جو کہ شہری علاقوں میں ہوئے۔ پندرہ جولائی کو سوات کے علاقہ مٹہ میں دو خودکش حملہ آوروں نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے۔ چار ستمبر کو راولپنڈی میں دو خود کش حملوں میں پچیس افراد ہلاک ہوئے اور پھر تیرہ ستمبر کو تربیلا غازی کے مقام پر فوج کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کی کینٹین میں دھماکہ ہوا جس میں سولہ ہلاکتیں ہوئیں۔ پاکستان اور افغانستان میں خود کش حملوں میں موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے ہر حملے میں اوسطاً دو اور پاکستان میں نو ہلاکتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح افغانستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں سویلین ہلاکتوں کا تناسب ایک دو کا ہے جب کہ پاکستان میں یہ تناسب ایک انیس ہے۔ اسی طرح افغانستان میں خود کش حملوں کے نتیجے میں فوجی ہلاکتوں کا تناسب ایک تین ہے جب کہ یہی تناسب پاکستان میں ایک پانچ کا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں بیشتر میں حملہ آور پیدل ہی آئے اور بہت کم حملوں میں بارود بھری گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ اگر فوج اور سکیورٹی اہلکاروں پر شہری علاقوں میں حملوں کا جائزہ لیا جائے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ گویا حملہ آور کو آسانی سے رسائی حاصل تھی جیسے کہ چار ستمبر کو راولپنڈی میں خفیہ ایجنسی کی بس پر ہونے والا حملہ۔ بس کا انتظار کرتے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو حملہ آور مشکوک نہیں لگا۔ اسی طرح جمعرات کو ہونے والے حملے میں بھی حملہ آوور کے مانوس ہونے کا امکان محسوس ہوتا ہے۔ شہریوں پر خود کش حملوں کو نہ روک سکنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن تربیلا غازی جیسی جگہ پر حملے کو نہ روک سکنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ | اسی بارے میں تربیلا حملے میں ہلاکتوں کی تعداد سولہ14 September, 2007 | پاکستان بنوں، وزیرستان میں خود کش حملے18 August, 2007 | پاکستان ’دھماکہ خود کش حملہ ہوسکتا ہے‘19 July, 2007 | پاکستان ہنگو میں خود کش حملہ، پانچ ہلاک19 July, 2007 | پاکستان کراچی: خود کش حملے میں سزائیں22 March, 2007 | پاکستان خود کش حملوں کی ایک ’نئی تنظیم‘16 February, 2007 | پاکستان خود کش حملہ آوروں کے خاکے 08 February, 2007 | پاکستان ڈیرہ آئی خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||