تربیلا حملے میں ہلاکتوں کی تعداد سولہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا ہے کہ تربیلا میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سولہ ہو گئی ہے جبکہ دیگر انتیس زخمی ہیں۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو مختلف فوجی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہیں۔ میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جمعرات کی رات کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ تربیلا غازی کے مقام پر فوج کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کی کینٹین میں ہونیوالے دھماکے سے ایس ایس جی کے جوانوں سمیت پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ دھماکہ ایس ایس جی کی کرار کمپنی کے میس میں ہوا۔ کرار کمپنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے جوانوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ زخمیوں کو اٹک اور راولپنڈی کے ملٹری ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے چھ کی حالت حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعہ سے چند روز قبل راولپنڈی میں ایک بس میں ہونیوالے دھماکے سے پندرہ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہری پور سے سرحد اسمبلی کے رکن فیصل زمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تربیلا میں ہونیوالا بم دھماکہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس ہے۔ |
اسی بارے میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان دس حملہ آور ہلاک، فوجی زخمی09 September, 2007 | پاکستان باجوڑ میں لیویز کی چوکی پر حملہ08 September, 2007 | پاکستان القاعدہ پاکستان میں موجود: مشرف07 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||