’مجرم بھی صدر بن سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کےسابق جج اور صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجہیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ آئین میں صدر کی اہلیت کےحوالے سے کی جانی والی ترامیم کے بعد اب کوئی مجرم، پاگل یا کوئی سرکاری ملازم بھی صدر بن سکتا ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) وجہیہ الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین بحال کرنے سے پہلےجاری کیےگئے صدراتی آرڈیننس کےذریعےان ساری باتوں کو مان لیا گیا ہے جو انہوں نےسپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پیٹیشن میں اٹھائے تھے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) وجہیہ الدین احمد نے صدر جنرل مشرف کے انتخابات کو چیلنج کیا تھا اور اس آئینی درخواست کی سماعت سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف جنرل مشرف نے آئین معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور سپریم کورٹ کے انیس میں سے چودہ ججوں کو عدالت سے نکال دیا تھا۔ جسٹس (ریٹائرڈ) وجہیہ الدین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے ان کا موقف تھا کہ صدر کا انتخاب صدر کی مدت ختم ہونے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس کو مانتے ہوئے آرٹیکل اکتالیس میں ترمیم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ میں کی جانی والی ترامیم کے ذریعے وہ تمام قدغنیں ہٹا دی ہیں جو کسی بھی صدارتی امیدوار پر لاگو ہوتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ میں ترامیم کے بعد موجودہ چیف آف آرمی سٹاف یا کسی بھی حکومتی عہدے پر فائز کوئی شخص صدر کا الیکشن لڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد کوئی مجرم یا ذہنی توازن کھو جانے والا شخص بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینا چاہے تو وہ بھی الیکشن لڑ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں وجیہہ کے بیان پر سپریم کورٹ برہم04 October, 2007 | پاکستان آئینی درخواستوں کے لیے لارجر بنچ02 October, 2007 | پاکستان سولہ کروڑ عوام ہمارے ساتھ:وجیہہ 05 October, 2007 | پاکستان ’مفاہمتی آرڈیننس امتیازی ہے‘26 October, 2007 | پاکستان ’جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب‘19 November, 2007 | پاکستان جسٹس وجیہہ الدین صوبہ بدر07 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||