BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججوں کے نئے حلف غیرآئینی‘

بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں
بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں
پاکستان میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے سابق ججوں نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے ملک میں آئین کی بحالی کے بعد دوبارہ حلف اٹھانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان ججوں نے آئین کے ساتھ انحراف کیا ہے اور وہ غیرآئینی جج ہیں۔

برطرف کیے جانے والے سپریم کورٹ کے جج سردار رضا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے تین نومبر کو آئین سے ماورا کسی اقدام کو بھی غیرقانونی قرار دیا ہے، اس لیے اس فیصلے کی روح سے تین نومبر کے بعد ہونے والے تمام اقدامات غیرقانونی ہیں اور ان کی نظر میں جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا وہ اب بھی جج ہیں۔

سردار رضا نے کہا کہ تین نومبر کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شخص کے خلاف فیصلے کے خدشے کے پیش نظر پوری کی پوری سپریم کورٹ کو بند کردیں اور ججوں کو ان کے گھروں میں محبوس کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے خاتمے کے باوجود ججز کالونی کے باہر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری وہاں پر تعینات ہے۔

جب حکومت کی طرف سے جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے نوٹیفکیشن کے بارے میں پوچھا گیا تو سردار رضا خان نے کہا کہ ابھی تک ان کی سروس دو سال سے زائد رہتی ہے اور انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے درخواست نہیں دی ہے۔

اگر حالات بدلے تو۔۔۔۔
 سپریم کورٹ کے سینئر جج رانا بھگوان داس نے کہا کہ آئین کے بحال ہونے پر پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں نے دوبارہ حلف اٹھا کر آئین سے مذاق کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معزول کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا تین نومبر کا فیصلہ بحال ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اگر سپریم کورٹ کے سابق ججوں کو مستقبل میں کام کرنے دیا گیا تو جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے، وہ جج نہیں رہیں گے اور اگر یہ جج صاحبان پھر بھی کام کرتے ہیں تو انہیں سپریم کورٹ کے ایک آرڈر کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معزول کیے جانے والے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے تین نومبر کو جو فیصلہ دیا تھا وہ اپنی جگہ پر موجود ہے اور اس کی قانونی حثیت ہے۔ سردار رضا خان نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ کونسی بات مانی جائے گی، اس سات رکنی بینچ کی یا پھر پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کی۔

ایک سوال کے جواب میں پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج نے کہا کہ ایک ماہ قبل ان کی معزول کیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی اس کے بعد موبائل کی سم اور موبائل ٹیلی فون جام کردیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج رانا بھگوان داس نے کہا کہ آئین کے بحال ہونے پر پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں نے دوبارہ حلف اٹھا کر آئین سے مذاق کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معزول کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا تین نومبر کا فیصلہ بحال ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اگر سپریم کورٹ کے سابق ججوں کو مستقبل میں کام کرنے دیا گیا تو جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے، وہ جج نہیں رہیں گے اور اگر یہ جج صاحبان پھر بھی کام کرتے ہیں تو انہیں سپریم کورٹ کے ایک آرڈر کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ رانا بھگوان داس آج ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ گئے ہیں اور وہ اتوار کے روز پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج غلام ربانی کے ساتھ کراچی شِفٹ ہوجائیں گے جس کے بعد ججز کالونی میں جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت چار جج ایسے رہ جائیں گے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔ ان میں سردار رضا خان، میاں شاکراللہ جان اور ناصرالملک شامل ہیں۔

ججز کالونی میں زیر حراست ایک وہ جج جسٹس ناصرالملک نے بی بی سی کو بتایا کہ تین نومبر کے بعد ہونے والے اقدامات اس کے برعکس ہیں جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سات رکنی بینچ میں شامل تھے جنہوں نے تین نومبر کو حکومت کو کسی بھی غیرآئینی اقدام سے روکنے کے بارے میں فیصلہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تین نومبر کے بعد جو بھی اقدامات کیے گئے وہ اس فیصلے کے منافی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر وہ اپنے آپ کو جج سمجھتے ہیں تو کیا وہ پیر کے روز سپریم کورٹ جائیں گے، جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ اس بارے میں وہ اپنے ساتھی ججوں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔

خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ابھی تک ان ججوں کی نگرانی کر رہے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا ہے۔ ادھر دوسری طرف اس بات کا امکان ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد وکلاء کی تحریک ان ججوں کی بحالی کے لیے مزید زور پکڑے گی۔

ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جج کے ایام قید
وہ دس دن بہت تکلیف دہ تھے: جسٹس(ر) طارق
’انکل شکریہ۔۔۔‘’انکل شکریہ۔۔۔‘
افتخار چوہدری کی بیٹی کا ججوں کو خط
باعزت برخاستگی
حکومت حلف نہ لینے والے ججوں کی باعزت برخاستگی چاہتی ہے
جسٹس خواجہ شریف ’باغی‘ جج نظربند
ججوں کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی
جج(فائل فوٹو)ججوں کا انکار
اعلٰی عدلیہ کے درجنوں ججوں نےحلف نہیں اٹھایا
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد