 | | | چیف جسٹس سمیت کئی ججوں کو قید میں رکھا جا رہا ہے |
پاکستان میں اس وقت تک آئین کی حکمرانی نہیں گی جب تک صدر پرویز مشرف ایمرجنسی کے تحت برطرف کیے گئے ججوں کو بحال اور آئین میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس نہیں لیتے۔ پاکستان میں تین نومبر کو نافذ کی گئی ایمرجنسی ہٹائے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مشرف حکومت کی طرف سے آئین کی نام نہاد بحالی فوج کو طاقت کا بے جا استعمال کرنے کا اختیار اور ان اقدامات کو قانونی تحفظ دے گی جو ذرائع ابلاغ اور وکلاء کو خاموش کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔‘ ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ اور برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر مشرف کو آئین اور عدلیہ کی بحالی پر مجبور کریں۔ ’بش اور براؤن کو مشرف کا ساتھ دینے کی بجائے طاقت اپنے پاس مرتکز کرنے کے حالیہ اقدامات پر ان کی مذمت کرنی چاہیے۔‘ ہیومن رائٹس واچ کے جنوبی ایشیا میں محقق علی دایان حسن کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت کئی ججوں کو قید میں رکھا جا رہا ہے اور فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تحفظ دینے کے لیے آئین میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جن کے لیے عام حالات میں پارلیمان میں دو تہائی اکثریت چاہیے ہوتی ہے۔
 | | | بش اور براؤن کو مشرف کا ساتھ دینے کی بجائے ان کی مذمت کرنی چاہیے |
ان کا کہنا ہے کے ان ترامیم کے تحت عدلیہ سے وہ اختیار لے لیا گیا ہے جس کے تحت وہ ایمرجنسی لگنے کے بعد صدر مشرف یا فوج کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے سکتی تھی۔ ’قانون کی حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ صدر مشرف تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ اور آئین بحال کریں۔‘ علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ایک ترمیم کے تحت فوج کئی معاملات میں عام شہریوں کے خلاف ملٹری کورٹس میں کارروائی کر سکے گی، جن میں مبہم الزام ’عوامی فتنہ‘ بھی شامل ہے۔ ’ملٹری کورٹس میں ہونے والی کارروائی کھلے عام نہیں ہوگی، تحقیقات فوجی افسر کرینگے اور گواہیوں کے لیے ضابطۂ فوجداری کا مروج طریقۂ کار لاگو نہیں ہوگا۔‘ آرمی ایکٹ میں کی گئی یہ ترمیم جنوری 2003 سے لاگو سمجھی جائے گی، جس کا مطلب ہے فوج کو لوگوں کو گرفتار کرنے اور ’غائب‘ کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ علی دایان حسن کے مطابق پاکستان میں فوج انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرتی ہے اور اب قوانین تبدیل کر کے اسے جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ کو ایسا کوئی مواد شائع کرنے یا نشر کرنے سے منع کر دیا گیا ہے جو ’ریاست کے سربراہ، فوج، عدلیہ اور انتظامیہ کے لیے سبکی کا سبب بنے۔ ٹیلی ویژن پر ہونے والے ان تمام مذاکرات پر بھی پابندی ہوگی جنہیں  | | | ’وکلاء صدر مشرف کی حقیقی اپوزیشن کے طور پر آئین کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں‘ | ریگولیٹری ادارہ (پیمرا) بے بنیاد اور جھوٹ سمجھے گا۔ ’پاکستان کے سب بڑے نجی ٹیلی ویژن نیٹ ورک جیو کی نشریات پر پابندی ہے جبکہ تمام نجی ٹی وی چینلوں پر انتخابات سے متعلقہ سرگرمیاں براہ راست دکھانے پر پابندی ہے۔‘ ایک اور حکمنامے کے ذریعے بار ایسوسی ایشنز کی آزادی سلب کر دی گئی ہے اور اب وکلاء کو حکومت مخالف سرگرمیاں کرنے پر بار کی رکنیت سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ اسی حکمنامے کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو بھی وکلاء کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ وکلاء صدر مشرف کی حقیقی اپوزیشن کے طور پر آئین کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے حوالے سے متعارف کرائے گئے قوانین کا مقصد انہیں خاموش کرنا ہے۔ |