BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ کے بغیر آئین کی بحالی نام نہاد‘
چیف جسٹس وجلِ
چیف جسٹس سمیت کئی ججوں کو قید میں رکھا جا رہا ہے
پاکستان میں اس وقت تک آئین کی حکمرانی نہیں گی جب تک صدر پرویز مشرف ایمرجنسی کے تحت برطرف کیے گئے ججوں کو بحال اور آئین میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس نہیں لیتے۔

پاکستان میں تین نومبر کو نافذ کی گئی ایمرجنسی ہٹائے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مشرف حکومت کی طرف سے آئین کی نام نہاد بحالی فوج کو طاقت کا بے جا استعمال کرنے کا اختیار اور ان اقدامات کو قانونی تحفظ دے گی جو ذرائع ابلاغ اور وکلاء کو خاموش کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔‘

ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ اور برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر مشرف کو آئین اور عدلیہ کی بحالی پر مجبور کریں۔ ’بش اور براؤن کو مشرف کا ساتھ دینے کی بجائے طاقت اپنے پاس مرتکز کرنے کے حالیہ اقدامات پر ان کی مذمت کرنی چاہیے۔‘

ہیومن رائٹس واچ کے جنوبی ایشیا میں محقق علی دایان حسن کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت کئی ججوں کو قید میں رکھا جا رہا ہے اور فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تحفظ دینے کے لیے آئین میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جن کے لیے عام حالات میں پارلیمان میں دو تہائی اکثریت چاہیے ہوتی ہے۔

بش اور براؤن کو مشرف کا ساتھ دینے کی بجائے ان کی مذمت کرنی چاہیے

ان کا کہنا ہے کے ان ترامیم کے تحت عدلیہ سے وہ اختیار لے لیا گیا ہے جس کے تحت وہ ایمرجنسی لگنے کے بعد صدر مشرف یا فوج کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے سکتی تھی۔ ’قانون کی حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ صدر مشرف تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ اور آئین بحال کریں۔‘

علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ایک ترمیم کے تحت فوج کئی معاملات میں عام شہریوں کے خلاف ملٹری کورٹس میں کارروائی کر سکے گی، جن میں مبہم الزام ’عوامی فتنہ‘ بھی شامل ہے۔ ’ملٹری کورٹس میں ہونے والی کارروائی کھلے عام نہیں ہوگی، تحقیقات فوجی افسر کرینگے اور گواہیوں کے لیے ضابطۂ فوجداری کا مروج طریقۂ کار لاگو نہیں ہوگا۔‘

آرمی ایکٹ میں کی گئی یہ ترمیم جنوری 2003 سے لاگو سمجھی جائے گی، جس کا مطلب ہے فوج کو لوگوں کو گرفتار کرنے اور ’غائب‘ کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ علی دایان حسن کے مطابق پاکستان میں فوج انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرتی ہے اور اب قوانین تبدیل کر کے اسے جج، جیوری اور جلاد کا کردار ادا کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

اسی طرح ذرائع ابلاغ کو ایسا کوئی مواد شائع کرنے یا نشر کرنے سے منع کر دیا گیا ہے جو ’ریاست کے سربراہ، فوج، عدلیہ اور انتظامیہ کے لیے سبکی کا سبب بنے۔ ٹیلی ویژن پر ہونے والے ان تمام مذاکرات پر بھی پابندی ہوگی جنہیں

’وکلاء صدر مشرف کی حقیقی اپوزیشن کے طور پر آئین کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں‘
ریگولیٹری ادارہ (پیمرا) بے بنیاد اور جھوٹ سمجھے گا۔ ’پاکستان کے سب بڑے نجی ٹیلی ویژن نیٹ ورک جیو کی نشریات پر پابندی ہے جبکہ تمام نجی ٹی وی چینلوں پر انتخابات سے متعلقہ سرگرمیاں براہ راست دکھانے پر پابندی ہے۔‘

ایک اور حکمنامے کے ذریعے بار ایسوسی ایشنز کی آزادی سلب کر دی گئی ہے اور اب وکلاء کو حکومت مخالف سرگرمیاں کرنے پر بار کی رکنیت سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ اسی حکمنامے کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو بھی وکلاء کی رکنیت منسوخ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

علی دایان حسن کا کہنا ہے کہ وکلاء صدر مشرف کی حقیقی اپوزیشن کے طور پر آئین کی بحالی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے حوالے سے متعارف کرائے گئے قوانین کا مقصد انہیں خاموش کرنا ہے۔

بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں’آئین سے انحراف‘
نئے حلف آئین سے انحراف: معزول ججز
ایمرجنسیایمرجنسی کا عرصہ
ایمرجنسی کے تحت ملک میں کیا کیا ہوا؟
وکلاء کا احتجاج’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
معزول چیف جسٹس’بدستور محصور‘
جسٹس افتخار کا گھر ابھی تک مقفل ہے
طارق فاروقاپوزیشن کے کارکن رہا
’دورانِ حراست غیر انسانی سلوک کیا گیا۔۔‘
لاپتہ افرادگمشدگیاں جاری ہیں
پانچ ماہ میں آٹھ افراد کو اٹھایا گیا: انسانی کمیشن
رہائی یا مقدمہ
دو مغوی امریکیوں کیلیے پاکستان سے مطالبہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد