’جسٹس افتخار بدستور محصور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق معزول چیف جسٹس کو ججز کالونی سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین کو معزول چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام آباد میں ایک صحافی مشتاق منہاس کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ججز کالونی سے باہر آنے کی کوشش کی اور وہ سپریم کورٹ جانا چاہتے تھے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی چیف جسٹس ہیں، لیکن پولیس نے نہ صرف ان کو باہر آنے کی اجازت نہیں دی بلکہ ان کے گھر کے مرکزی گیٹ کو تالے لگا دیے۔ ادھر جسٹس وجیہہ الدین کو ایک ایسے مرحلے پر معزول ججز سے ملاقات کرنے سے روک دیا گیا جب وزارت داخلہ نے منگل کے روز کہا تھا کہ معزول ججز آزاد ہیں۔ ریٹائرڈ جسٹس وجہیہ الدین اسلام آباد بار کونسل سے چند وکلاء کے ہمراہ جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کرنے کے لیے ججز کالونی کے باہر پہنچے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ اعلیٰ حکام کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ ججز کالونی کے دونوں راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور وہاں بھاری تعداد میں پولیس تعینات ہے۔
ججز کالونی کی طرف جانے والی شاہرہ پر بھی پولیس موجود تھی اور انہوں نے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور پوچھ گچھ کے بعد ہی گاڑیوں کو آگے جانے دیا جا رہا تھا۔ جسٹس وجہیہ الدین نے کہا کہ وزارت داخلہ نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ آزاد ہیں ’یہی وجہ ہے کہ میں اپنے بہادر ساتھیوں سے ملاقات کرنے آیا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ انہیں ملاقات کی اجازت نہ دے کر حکومت یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ وہ ہر معاملے پر جھوٹ بولتی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جن ججز نے حلف نہیں اٹھایا ہے وہ آزاد ہیں اور اگر وہ چاہیں تو اپنے گھروں کو جاسکتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ معزول چیف جسٹس اور ان کے ساتھی اپنی مرضی اور منشا کے مطابق رہتے ہیں۔ جسٹس وجہیہ الدین نے کہا کہ ان کا چیف جسٹس سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم جمعرات کے روز بھی نظر بند ججز کے لیے پھول لائیں گے۔ اس سے قبل جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین اسلام آباد میں بار روم میں گئے جہاں انہوں نے وکلاء سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وکلاء نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور ایمرجنسی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ جسٹس وجہیہ الدین جب ججز کالونی سے واپس آرہے تھے تو پولیس نے ان کے ہمراہ جا رہے ایڈووکیٹ اطہر من اللہ کو حراست میں لے لیا۔ |
اسی بارے میں ’جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب‘19 November, 2007 | پاکستان اصل چیف جسٹس افتخار چودھری ہیں: بےنظیر بھٹو10 November, 2007 | پاکستان کراچی:وکلاء کی گرفتاریاں جاری13 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ کالعدم06 November, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا ٹیلیفونک خطاب سنیں06 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||