کارکن رہا، غیر انسانی سلوک کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گرفتار کیے گئے حزبِ مخالف کی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ رہائی پانے والے سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ قید کے دوران ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا جس کی وجہ سے کئی کارکن شدید بیمار ہوگئے۔ حکومت پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کےروبرو اس درخواست کی سماعت کے دوران سیاسی کارکنوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے جس میں ان کی گرفتاریوں کو چیلنج کیا گیا تھا اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ حکومت پنجاب نے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کیا تھا جن کی تعداد ان جماعتوں نے سینکڑوں میں بتائی تھی۔ تاہم حکومت کا موقف تھا کہ ایک سو کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کی رہائی کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت عالیہ کے روبرو حکومت پنجاب نے بیان دیا تھا کہ تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ رہا ہونے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ جیل میں جانوروں جیسا سلوک کیاگیا اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ لیبر پارٹی پاکستان کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں میں شامل تھے۔ انہیں چار جون کو حراست میں لیا گیا تھا۔ طارق فارو ق نے اپنی رہائی کے بعد لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیدیوں کوگرفتار کرنے کے حکومتی اقدام کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور اس مقصد کے لئے لاہور ہائی کورٹ کے جج کو مقرر کیا جائے۔ ان کے مطابق وہ لاہور سے رہا ہونے والے آخری سیاسی اسیر ہیں۔ ان کے مطابق انہیں پولیس نے اغوا کرنے کے بعد تین دن تک غیر قانونی حراست میں ایک نجی قید خانہ میں رکھا جس کے بعد پہلے ان کو بہاولپور اور اس کے بعد لاہور کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا اور کالا پانی کی تاریخ دھرائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں گجرات سے پیپلز پارٹی کے کارکن سرمد منصور مناسب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کرگئے جو کہ ایک سیاسی قتل کیا گیا ہے۔ فاروق طارق نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی طور پر سیاسی کارکنوں کو قید کرنے پر ہوم سیکرٹری پنجاب کو برطرف کیا جائے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کے سینیٹر سردار لطیف احمد خان کھوسہ نے کہنا ہے کہ کسی بھی شہر میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے خطاب کے موقع پر سیاسی کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ایک معمول بن گئی ہیں، جسے روکنے کے لئے عدالت سے رجوع کرلیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||