BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 December, 2007, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی کے تحت کیا کیا ہوا؟

اسلام آباد میں فوج
تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اسلام آباد کے کئی علاقوں میں فوج تعینات کر دی گئی
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے سنیچر کے روز ملک سے ایمرجنسی ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد آئین مکمل طور پر بحال ہوگیا ہے۔

ملک میں تین نومبر کو نافذ ہونے والی ایمرجنسی کے بعد سے اب تک کون کونسے واقعات رونما ہوئے، ان کا مختصر احوال ذیل میں دیا جا رہا ہے:

تین نومبر: صدر مشرف نے ملک کے عدلیہ کو نظام میں رکاوٹ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے ایمرجنسی نفاذ کر دی۔ اُنہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کردیا تھا۔

چار نومبر: پولیس نے حزبِ اختلاف کے خلاف کارروائی شروع کردی جن پر صدر مشرف کے اہم حامی امریکہ نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

پانچ نومبر: پولیس نے ملک کے بیشتر شہروں میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا جس پر وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ یہ ایک پاکستان کے لیے مشکل صورتحال ہے۔

چھ نومبر: معطل چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری نے عوام کو آواز بلند کرنے کو کہا مگر جلد ہی ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ ختم ہو گیا اور ان کے تمام ٹیلی فون کاٹ دیئے گئے۔

سات نومبر: ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے اہم تریں دن تھا جب اپوزیشن کی مرکزی جلاوطن رہنماء بے نظیر بھٹو نے صدر مشرف کے اقدامات کے خلاف عوامی احتجاج کا اعلان کردیا جبکہ دوسری جانب اس ہی روز امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک دوستانہ ٹیلی فون کال کرکے صدر سے شفاف انتخابات کرانے اور آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا کہا۔

نو نومبر: پولیس نے بے نظیر بھٹو کو اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا، اور بعد میں اُن کی نظر بندی کے احکامات واپس لے لئے گئے۔ بے نظیر کی نظر بندی راولپنڈی میں اُن کی ریلی سے چند گھنٹوں پہلے کی گئی تھی۔

گیارہ نومبر: صدر مشرف نے اسمبلیاں پندرہ نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔

بارہ نومبر: ملکی سیاسی صورتحال ایک بار پھر اُس وقت تبدیل ہوگئی جب بے نظیر بھٹو نے شراکتِ اقتدار کے لئے صدر مشرف سے مزید بات چیت کو خارج از امکان قرار سے دے دیا۔

تیرہ نومبر: بے نظیر بھٹو کی جانب سے پہلی بار جاری کئے گئے اس بیان سے کہ وہ صدر مشرف کے ماتحت کبھی وزیرِ اعظم کا عہدہ قبول نہیں کریں گی اُن کا کہنا تھا کہ صدر مشرف اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔

پندرہ نومبر:ایک سینئر حکومتی عہدے دار کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ صدر مشرف یکم دسمبر کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے اور نگران حکومت کے وزیرِ اعظم کے طور پر سینٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو کا نام سامنے آیا۔

سولہ نومبر: امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف سٹیٹ جون نیگروپونٹے اسلام آباد پہنچے اور بے نظیر بھٹو سے فون پر رابطہ کیا۔ اس ہی روز بے نظیر بھٹو کی نظر بندی ختم کردی گئی۔

سترہ نومبر: جون نیگرپونٹ نے صدر مشرف اور دیگرسیاسی رہنماؤں اور فوجی افسران کے ساتھ دن گزارا۔

اٹھارہ نومبر : نیگروپونٹ نے پاکستان حکومت سے ایمرجنسی کے نفاذ کے جلد خاتمے کا مطالبہ کیا اور ایمرجنسی کو شفاف انتخابات میں رکاوٹ قرار دیا۔

اُنیس نومبر: پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

بیس نومبر: حکام نے ملک میں عام انتخابات آٹھ جنبری کو کرنے کا اعلان کیا اور لگ بھگ ساڑھے پانچ ہزار سیاسی کارکنوں کو رہا کر دیا جو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک کے مختلف شہروں سے گرفتار کیے گئے تھے۔اس ہی روز صدر مشرف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تاہم سرکاری طور پر وہان اُن کی سابق وزیرِ اعظم اور دوسرے جلاوھن رہنما نواز شریف سے ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

بائیس نومبر: سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائراپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی۔

تئیس نومبر: سپریم کورٹ نے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔

چوبیس نومبر: ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلی بار یکے بعد دیگرے دو خودکش حملے ہوئے یہ حملے راولپنڈی میں ہوئے جس میں کم ازکم سیکورٹی فورسز کے بیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس روز مسلم لیگ نون نےپچیس نومبر کو نوازشریف کی وطن واپسی کا اعلان کیا۔

پچیس نومبر: نوازشریف جلاوطنی ترک کر کے واپس پاکستان پہنچ گئے جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد نے اُن کا استقبال کیا۔

چھبیس نومبر: بے نظیر بھٹو اور نوازشریف نے انتخابات کے لئے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔ دوسری جانب صدر مشرف کے دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وہ بدھ کو فوج سے مستعفی ہو جائیں گے اور جمعرات کو سویلیں صدر کا حلف اُٹھائیں گے۔

ستائیس نومبر: صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔

اٹھائیس نومبر: ایک فوجی تقریب کے دوران صدر مشرف نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کردی۔

اُنتیس نومبر: صدر مشرف نے سویلئیں لباس میں ملک کے دوسری بار صدر کا حلف اُٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔

نو دسمبر: صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی پندرہ دسمبر کو اُٹھالی جائے گی۔

پندرہ دسمبر: صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کردیا۔

سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
جب ایمرجنسی لگی
ایمرجنسی کا دن، لمحہ بہ لمحہ صورتحال
1999 بمقابلہ 2007
جنرل مشرف کا واحد راستہ، پاکستان کی امید
رینجرزہر طرف خاکی وردی
ایمرجنسی کے بعد اسلام آباد کا حال
بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں’آئین سے انحراف‘
نئے حلف آئین سے انحراف: معزول ججز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد