BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 December, 2007, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی امداد دفاع پر خرچ‘
پاکستانی فوجی
پاکستان کو پانچ ارب ڈالر کولیشن سپورٹ پروگرام کے تحت دیے گئے تھے
بااثر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ کے خلاف آپریشن کے لیے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کا زیادہ تر حصہ اصل مقصد کی بجائے بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلحہ پر خرچ کر دیا گیا ہے۔

اخبار نے امریکی انتظامیہ اور فوج کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان نے زیادہ پیسے ایسے ہتھیاروں پر لگائے ہیں جو کہ بھارت کے خلاف دفاعی تیاریوں کے لیے تھے نہ کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے۔

امریکی فوج کے ایک سینئر اہلکار نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکام اخراجات کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ’لیکن میں امریکی حکام سے بھی کہتا ہوں کہ پاکستان کو اس طریقے سے امداد نہیں دینی چاہیے۔‘

پاکستانی حکام اخراجات میں مبالغہ آرائی کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا نہیں رہا جبکہ ان کارروائیوں میں کم و بیش پاکستان کے ایک ہزار فوجی اور پولیس اہلکار جانیں کھو بیٹھے ہیں۔

پاکستان کو پانچ ارب ڈالر کولیشن سپورٹ پروگرام کے تحت دیے گئے تھے جبکہ ایک دوسرے پروگرام کے تحت پاکستان کو فوجی ساز و سامان اور تربیت کے لیے تین سو ملین ڈالر سالانہ دیے جاتے ہیں۔

صدر مشرف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی امداد اپنی حکومت مضبوط کرنے میں صرف کی ہے۔ ایک یورپی سفارتکار کے مطابق امریکی حکام کو امداد دینے میں زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان کی طرف سے امریکہ سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

کوئی ستائش نہیں
 امریکہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا نہیں رہا جبکہ ان کارروائیوں میں کم و بیش پاکستان کے ایک ہزار فوجی اور پولیس اہلکار جانیں کھو بیٹھے ہیں
پاکستان

امریکی قانون ساز اسمبلی نے جمعرات کو پاکستان کی تین سو ملین ڈالر کی سالانہ امداد پر پابندی لگائی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس امداد میں سے پچاس ملین ڈالر روک لیے جائیں جب تک کہ کونڈولیزا رائس یہ یقین دہانی نہیں کراتیں کہ ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد صدر مشرف جمہوری اقدار کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ لیکن اس عمل کا کوالیشن سپورٹ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویوز میں پاکستانی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات طے نہیں ہوئی تھی کہ پیسے کس طرح خرچ ہونگے اور پاکستان یہ کیسے ثابت کرے گا کہ وہ امریکی توقعات پر پورا اتر رہا ہے۔

پاکستان کو فوجی امداد شروع کرنے کہ چھ سال بعد پینٹاگون نے پاکستانی فوج کی دہشتگردی کے خلاف اہلیت بڑھانے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متعین فوج کے لیے مخصوص سازوسامان اور تربیت پر زور دیتا ہے۔

پاکستانی حکام امریکہ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جدید ہیلی کاپٹرز، جاسوسی کرنے والے جہاز، ریڈیوز اور اندھیرے میں دیکھنے والا سازوسامان مہیا نہیں کر رہا۔

فوج کی ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مخصوص نوعیت کا سازوسامان چاہیے جو کہ ہمیں نہیں دیا جا رہا۔ اس وجہ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔

دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان میں جنگ کی وجہ سے ان کے پاس پاکستان کو دینے کے لیے جدید ہیلی کاپٹرز نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ جاسوسی کرنے والے جہاز، ریڈیوز اور اندھیرے میں دیکھنے والا سازوسامان کی برآمد پر امریکی قانون کے تحت پابندی ہے۔

لیکن دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ امداد پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہلیت بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پاک فوج اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو موثر طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کی تربیت میں تین سے پانچ سال لگیں گے۔

امریکی حساس اداروں کے کہنا ہے کہ دو ہزار نو میں صدر بش کی صدارتی مدت ختم ہونے تک اُسامہ بن لادن نہیں پکڑا جائے گا کیونکہ ابھی تک اس کے ٹھکانے کے متعلق کوئی ٹھوس اطلاع نہیں ہے۔

امریکی حساس اداروں کے مطابق القاعدہ کے رہنماء پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہیں اور دوبارہ منظم ہو رہے ہیں جبکہ طالبان کا اس علاقے میں اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کولیشن سپورٹ پروگرام کی رقم قومی خزانے میں جاتی ہے مگر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان فوجیوں تک نہیں پہنچتی جن کو اس کی ضرورت ہے، جیسے کہ ہیلی کاپٹرز کی دیکھ بھال اور فرنٹیئر کانسٹیبلری جن کے پاس جدید سازوسامان موجود نہیں۔

پاک فوج
امداد پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہلیت بڑھانے میں ناکام رہی ہے

حال ہی میں ایک امریکی افسر نے دیکھا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک سپاہی برف میں کھلے جوتے پہنے کھڑا تھا اور اس کی کلاشنکوف بھی نہایت خستہ حالت میں تھی۔

پچھلے ماہ نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں صدر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ پرزوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان کو کوبرا ہیلی کاپٹرز کی دیکھ بھال میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی حکام اس بیان کو مضحکہ خیز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پچھلے چھ ماہ میں آٹھ ملین ڈالر کے پرزہ جات دیے گئے ہیں اور تقریباً چھ ملین ڈالر کا سامان اگلے سال دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ امریکہ نے پچپن ملین ڈالر ہیلی کاپٹروں کے لیے دیے تھے جن میں سے فوج کو صرف پچیس ملین ڈالر ملے۔

صدربش اور صدر مشرف’لالی پاپ تک نہیں‘
پاکستانی اخبارات بش کے دورے سے مایوس
عائشہ صدیقہ’میں تو ایسا نہیں‘
ایک میجر کا گِلہ اور عائشہ صدیقہ کا جواب
جوہری نظام غیر یقینی حالات
پاکستانی جوہری اثاثوں پر امریکی تشویش
صدر بش، پاک دورہ
بش دورے سے پاکستانی توقعات کو جھٹکا: تجزیہ
پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
امریکی سینٹنیا امریکی قانون
پاکستان کی مدد انسدادِ دہشتگردی سے مشروط
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد