BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 July, 2007, 19:27 GMT 00:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کو امریکی مدد، نئی شرائط
امریکی سینیٹ
نیا قانون یکم اکتوبر سے لاگو ہو گا
امریکی کانگریس نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت پاکستان کی امداد، پاکستان کی سر زمین سے القاعدہ، طالبان اور دوسری حزبِ مخالف شدت پسند تنظیموں کی کارروائی کے خاتمے سے مشروط قرار دی گئی ہے۔

امریکی کانگریس کی طرف سے منظور ہونے والا انسدادِ دہشت گردی کا یہ نیا قانون، گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے تحقیقاتی کمیشن کی تجویز کردہ سفارشات پر مبنی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ضمن میں پاکستان کو امریکہ کی جانب سے کروڑوں ڈالر کی اقتصادی اور فوجی امداد مل رہی ہے۔ رواں سال میں پاکستان نے امریکہ سے اس مد میں ستر کروڑ ڈالر حاصل کیے ہیں اور آئندہ سال کے لیے بھی امریکہ نے اسی کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔

نیا قانون یکم اکتوبر 2007 کے نئے امریکی مالی سال سے لاگو ہو گا جس کے بعد پاکستان کو ہر طرح کی عسکری اور اقتصادی امداد دینے سے پہلے امریکی صدر کو یہ یقین دہانی کرانی ہو گی کہ پاکستان القاعدہ کے خلاف نتیجہ خیز جنگ لڑ رہا ہے اور اپنی سرزمین کو دہشت گرد یا مغربی مفادات کے خلاف عناصر کی پناہ گاہ نہیں بننے دے رہا۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی شاہین صہبائی نے بی بی سی اردو نشریات کے پروگرام سیربین میں اس امریکی قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ قانون پاکستان کے لیے آئندہ سال کی امریکی امداد میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور صدر بش مجوزہ مالی امداد کی منظوری دے دیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی وجہ سے مستقبل میں پاکستانی حکومتوں پر مسلسل دباؤ ضرور رہے گا۔

سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے نئے امریکی قانون پر افسوس کا اظہار کیا ہے

گزشتہ ہفتے امریکہ کی جاسوسی ایجنسیوں نے ایک مشترکہ رپورٹ میں ان شبہات کا اظہار کیا تھا کہ القاعدہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پھر سے مضبوط ہو گئی ہے۔ انہوں نے القاعدہ کے ازسرِ نو متحد ہونے کی وجہ ایک سال قبل پاکستانی حکومت کے اس معاہدے کو قرار دیا تھا جو اس نے قبائلی علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے قبائلیوں کے ساتھ کیا تھا۔

امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ کے بعد امریکہ کے اکثر سیاسی اور انتظامی حلقوں میں صدر مشرف اور ان کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان پر ’ڈبل گیم‘ یعنی دونوں طرف سے کھیل کھیلنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگرس کی طرف سے پاکستان کو امداد کے بارے میں اس قدر سخت شرائط پر مبنی قانون کی منظوری امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ کا ردعمل ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امریکی قانون پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ریاض کھوکھر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ پاکستان کو اپنا دوست کہتا ہے اور اگر دوست کے بارے میں اس قسم کا قانون لایا جائے تو یہ مناسب بات نہیں ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون پاکستان کے لیے ناصرف شرمندگی کا باعث ہے بلکہ اس سے بلاشبہ صدر مشرف اور ان کی حکومت پر سخت دباؤ پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سنیچر کو حکمران جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کی قیادت میں ایک سرکاری اجلاس کے دوران بھی اس امریکی قانون پر تنقید کی گئی ہے۔

سابق سیکرٹری خارجہ کے بقول عراق میں ناکامی اور انتخابات کے قریب ہونے کی وجہ سے امریکہ کی تمام سیاسی جماعتیں دباؤ کا شکار ہیں اور اسی لیے وہ پاکستان کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کو یہ بات سنجیدگی سے سوچنی پڑے گی کہ کیا وہ ایسی سخت شرائط پر امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

پاکستان کو امداد کے خلاف ایسے امریکی قوانین انیس سو اسی اور نوّے کی دہائیوں میں بھی سامنے آئے تھے تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق نیا قانون اس لیے قابلِ تشویش ہے کہ یہ قانون مکمل طور پر کارکردگی سے مشروط ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد