پاکستان کے حالات، امریکہ میں تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس و سینیٹ میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہان سمیت ڈیموکریٹک اور حکمران رپبلکن پارٹی کے ممتاز اراکین نے پاکستان میں گزشتہ تین ماہ سے جاری عدالتی و سیاسی بحران کے حوالے سے ظہور پذیر ہونے والے واقعات و حالات پر خارجہ سیکرٹری کونڈا لیزا رائس کو مشترکہ خط لکھا ہے۔ اس خط میں پاکستان میں تازہ حالات کے تناظر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی مبینہ بیخ کنی پر رپبلکن و ڈیموکریٹک اراکین کی جانب سےگہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بش انتظامیہ کی طرف سے اس حوالے سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ ڈیموکریٹک اور رپبلکن پارٹیوں کے سرکردہ اراکینِ کانگرس و سینیٹ نے مشترکہ خط لکھا ہو۔ خط لکھنے والوں میں سینیٹ میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ اور حکمران رپبلکن پارٹی کے سرکردہ سینیٹر بیڈن جونئير، کانگریس میں رینکنگ خاتون رکین الیانا راس لہنیٹائين اور کانگرس میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ اور کیلیفورنیا سے منتخب رکن ٹام لینٹوس شامل ہیں۔ خط میں پاکستان میں صدر مشرف کے ہاتھوں چیف جسٹس کی معطلی اور اس کے خلاف وکلاء اور سیاسی تحریک پر ریاستی تشدد سمیت انسانی حقوق کی مخدوش صورتحال کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔ رپبلکن و ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ پاکستان میں احتجاجی لہر کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ صدر مشرف آئندہ آنے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارنہ کروانے کا وعدہ پورا کرنے والے نہیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے قومی مفادات پاکستان میں جمہوریت کی مکمل بحالی اور وہاں وکلاء ، سول سوسائٹی اور سیکولر سیاسی جماعتوں کے خلاف ریاستی تشدد کے مکمل خاتمے میں ہے۔ امریکہ میں مشرف مخالف پاکستانی سیاسی و سول سوسائٹی کے حلقے اور جمہوریت نواز تنظیمیں اس خط کو اپنی اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ دریں اثناء عالمی تھنک ٹینک’انٹرنیشنل کرائسز گروپ‘ نے اپنے’الرٹ‘ میں بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹائے جانے کے نتیجے میں وسیع طور چلنے والی حزب مخالف کی تحریک کو کچلنے کے لیے صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی لگانے کی باتوں پر امریکہ پاکستانی فوجی حکومت کو صاف الفاظ میں جمہوریت کی بحالی اور شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات کا پیغام بھیجے۔
’انٹرنیشنل کرائسز گروپ‘ نے پاکستان میں ایمرجننسی کے نفاذ کی صورت میں ملک کے مارشل لاء کے نفاذ کی طرف چلے جانے اور خون خرابہ ہونے کے خدشات کے ساتھ خراب منظرنامے کے طور پر ملک میں اسلامی انتہاپسندوں کے طاقت پکڑنے اور امریکی مخالف جذبات مزید بھڑک اٹھنے کی پیشنگوئي کی ہے۔ ’انٹرنیشنل کرائسز گروپ‘ نے امریکہ کے علاوہ یورپی یونین اور جاپان سے بھی کہا ہے کہ وہ مشرف حکومت پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے عزائم سے باز رکھنے، آئندہ انتخابات شفاف و غیر جانبدارانہ کروانے اور جلاوطن سیاسی رہنماؤں کو وطن واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کو کہا ہے۔ امریکی سینیٹ اور کانگریس کے اراکین میں پاکستان میں صدر مشرف کے ہاتھوں چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف امریکہ میں احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے والے ایک ممتاز پاکستانی امریکی پیشہ ور نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ’وائٹ ہاؤس اور پاکستانی قونصل خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہروں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن دونوں امریکی پارٹیوں کے منتخب اراکین سینیٹ و کانگرس کے ایسے خطوط امریکہ میں پاکستانی جمہوریت نوازوں کی بڑی کامیابی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’جمہوریت نواز پاکستانی تارکین وطن‘ کو اپنے اپنے علاقوں کے سینیٹرز اور اراکین کانگریس کو پاکستان میں جمہوریت کی مکمل بحالی اور مشرف حکومت کے حزب مخالف کے خلاف ریاستی تشدد کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے رابطے تیز کرنے ہوں گے۔ |
اسی بارے میں امریکہ: پاکستانیوں کی تنظیم و مظاہرے18 May, 2007 | آس پاس جرنیلوں کا فاتح یا جرنیلی سڑک کا؟08 May, 2007 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||