امریکہ: پاکستانیوں کی تنظیم و مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں اتحاد برائے پاکستان میں بحالئیِ جمہوریت یا کولیشن فار دی ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی ان پاکستان (سی آر ڈی پی) نامی ایک تنظیم کا قیام عمل میں آیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے حالیہ احتجاجی تحریک کے حق میں امریکہ میں منتخب قانون سازوں اور امریکی عوام کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ جبکہ دوسری طرف شمالی امریکہ میں مشرف حکومت کے خلاف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور وکلاء کی حمایت میں ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس سلسلے کی پہلی ریلی سنیچر، انیس مئي کو واشنگٹن میں منقعد ہوگی۔ پاکستان کے حالات کے بارے میں تشویش رکھنے والے پاکستانی امریکی پیشہ وروں میں سے ایک ڈاکٹر ظفر اقبال نے ایریزونا ریاست سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سی آر ڈی پی کے نام سے قیام میں آنے والی تنظیم اصل میں ڈاکٹروں، انجنیئروں، مصنفوں اور دانشوروں سمیت زندگي کے مختلف شعبوں کے پیشہ ور پاکستانی امریکیوں اور تنظیموں کا غیر رسمی اتحاد ہے جس کا مقصد پاکستان میں بحالی جمہوریت کے لیے امریکی قانون سازوں اور امریکی سول سوسائٹی و عوام کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ڈاکٹر ظفر اقبال نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ اتحاد غیر رسمی لیکن وسیع طور ایک نقطے پر ہے جو ان کے بقول ’آمریت کے خلاف اور بحالئیِ جمہوریت کے لیے اٹھنے والے عوام کے لیے امریکی منتخب نمائندوں اور عوام کی یکجہتی اور حمایت حاصل کرنا ہے‘۔ ڈاکٹر ظقر اقبال جو ’انا‘ نامی تنظیم کے بھی عہدیدار ہیں کہا ہے کہ نجی پیشہ ور امریکی پاکستانیوں کا یہ اتحاد امریکہ میں بسنے والے پاکستانیوں سے اپیل کرے گا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں خطوط اور بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے امریکی کانگریس و سینیٹ کے منتخب نمائندوں اور انسانی حقوق اور میڈیا سمیت سول سوسائٹی کے لوگوں کو پاکستان کے عوام اور وکلاء کے حالیہ احتجاج کے لیے حمایت پر آمادہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی امریکی پروفیشنلز اپنے قلم اور ایکٹیوازم کے زور سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحتیں، ذرائع و رابطے بروئے کار لائيں گے۔ ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ انہوں نے اتحاد کے دائرۂ کار کو اور مربوط بنانے کے لیے پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی رابطے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اتحاد برائے بحالئیِ جمہوریت میں کسی بھی رنگ، نسل اور قومیت کے لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔ دریں اثنا سی آر ڈی پی کی طرف سے بذریعہ ای میل جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام نے غربت اور لاقانونیت سے تنگ آکر حمکران طبقے کے خلاف اپنی مکمل بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق تاریخ نے پاکستان کے عوام کو ایک موقع عطا کیا ہے۔ وکلاء کی موجودہ تحریک نے رجعت پسند قوتوں کو براہ راست للکار ہے اور وہ جو عام خیال تھا کہ فقط جنونی ملا ہی پاکستان میں عوام کو سڑکوں پرلاسکتے ہیں عبث ثابت ہوچکا ہے‘۔ پاکستانی امریکیوں کی اس نئی تنظیم کے بانی ارکین مختلف پیشوں اور تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ڈاکٹر ناصرگوندل، ایسوسی ایشن آف پاکستانی امریکن پروفیشنلز کے آصف عالم، میڈیا کے شہر یار اظہر اور تحریک انصاف امریکہ کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا تھا: ’ہم ڈاکٹروں، انجنیئروں، لکھاریوں اور پیشہ وار لوگوں کیلے اب دو ہی راستے بچتے ہیں یا تو ہم پاکستان کے تاریکی میں ڈوبنے کا تماشائی بنیں یا پھر روشن اور ترقی پسند پاکستان کے لیے جدو جہد کریں۔
ڈاکٹر ظفر اقبال نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس کے بعد واشنگٹن، لاس اینجلس، ہیوسٹن اور واشنگٹن سمیت دیگر بڑے شہروں سے بھی جمہوریت کے حق میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ یکم جون کو پاکستان میں وکلاء کی حمایت اور مشرف حکومت مخالف مظاہرے شمالی امریکہ میں بیک وقت دارالحکومت واشنگٹن اور کینیڈا کے بڑے شہر ٹورنٹو میں بھی منعقد کیے جائيں گے جن کا اہتمام پاکستان پروگریسو ڈیموکریٹک فرنٹ نامی تنظیم کرے گی۔ نئی شمالی امریکی تنظیم سی آر ڈی پی کا قیام اور مظاہروں کے پروگرام انیس سو اسی کی دہائي پی پی اے (پاکستان پروگریسو الائنس بشمول یورپ) اور سندھی ایسو سی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) جیسی ان تنظیموں کے قیام کی یاد دلاتے ہیں جو پاکستان میں جنرل ضیا ءالحق کی فوجی حکومت کے خلاف تحریک بحالئیِ جمہوریت کے دوران قائم کی گئیں اور جنہوں نے شمالی امریکہ میں جمہوریت نواز اور ضیاء مخالف ریلیاں منظم کیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||