BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 04:37 GMT 09:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج گھٹاؤ ملک بچاؤ‘، تین نسلوں کا رچاؤ!

ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر نیورو سرجن ڈاکٹر تک سارے کے سارے آزردہ مشرف نظر آتے ہیں
امریکہ میں حالیہ مشرف مخالف احتجاجی مظاہرے منظم کرنے اور ان میں شرکت کرنیوالوں میں، آپ کہہ سکتے ہیں، کہ تین نسلوں کا رچاؤ شامل ہے۔

ان افراد میں جہاں پاکستان میں ماضی کی حکومتوں کے خلاف تحریکی اور اب امریکہ میں تارک وطن پاکستانی سیاسی منحرفین اور انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک میں طالبعلم یا طالب العلم رہنماؤں کے طور پر شریک رہنے والے سیاسی دانشور کارکن بھی شامل ہیں، تو وہیں انیس ستر اور اسّی کے عشروں میں بھٹو اور ضیاءالحق کی حکومتوں کے مخالفین بھی اور اس کے علاوہ وہ مرد اور خواتین بھی ہیں جو مشرف مخالف مظاہروں میں پہلی بار حصہ لے رہے ہیں۔

میں نے گزشتہ پون عشرے میں تارک وطن پاکستانیوں کو کسی بھی پاکستانی حکومت یا حکمران پر اتنا برہم نہیں دیکھا جتنے امریکہ میں پاکستانی آج کل فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت اور حکومتی حلیف پارٹیوں پر ہیں۔

ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر نیورو سرجن ڈاکٹر تک سارے کے سارے آزردہ مشرف نظر آتے ہیں، اور وہ بھی جنہوں نے بارہ اکتوبر انیس سو نناوے میں ان کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کر کے اقتدار میں آنے کی حمایت کی تھی۔

مشرف مخالف ریلیوں میں اس بار پاکستانی تارک وطن اور پاکستانی امریکی ڈاکٹروں سمیت پیشہ ور افراد اور انسانی حقوق اور سول سوسائٹی سے وابستہ لوگوں کے ایک اچھی خاصی تعداد شرکت کر رہی ہے۔

گزشتہ تین ماہ میں مشرف مخالف ریلیاں اور تحریک منظم کرنے کیلیے کئی پیشہ ور اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان کے اتحاد منظم کیے گئے ہیں۔ ان میں ’کولیشن فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی‘،’پاکستانی امیریکن فزیشنز فار جسٹس اینڈ ڈیموکریسی، پاکستانی امیریکن ایڈووکیٹس فار ہیومن اینڈ سول رائٹس اور پاکستان امریکن نیشنل الائنس پیش پیش ہیں۔

واشنگٹن میں امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے سامنے پاکستان میں بحالیء جمہوریت کے حق میں مشرف مخالف مظاہرے ہوں کہ نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے پاکستانی تارک وطن سیاسی منحرفین کے احتجاجی اجتماعات وہاں مشرف مخالف نعرے شرکاء اور میڈیا کی بڑی دلچسپی بنے رہے ہیں۔

 پاکستان میں وکلاء اور حزب مخالف کی یہ مشرف مخالف تحریک کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں کوئی امریکہ یا امریکی پالیسی کا ذکر نہیں اور اپنے جوہر میں یہ تحریک پاپولر اور سیکولر ہے۔
امریکی شہری

’فوج گھٹاؤ ملک بچاؤ‘ان نعروں میں سے ایک تھا جوگزشتہ دنوں نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے کچھ تارک وطن پاکستانیوں کے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکاء کے ہاتھوں میں کتبوں یا پلے کارڈز پر تحریر تھا۔’فوج گھٹاؤ ملک بچاؤ، اور’گو مشرف گو‘ جیسے نعرے تارکین وطن پاکستانیوں میں کافی مقبول ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن اور نیویارک سمیت دیگر امریکی شہروں میں تارکین وطن پاکستانیوں کے مختلف گروپوں کی طرف سے آئے دن مشرف حکومت کے خلاف اور چیف جسٹس اور وکلاء کی تحریک کے حق میں احتجاجی مظاہروں ، سمیناروں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستانی نژاد پیشہ ور جن میں ممتاز پاکستانی ڈاکٹرز اور انجنیئرز ، سول سوسائٹیز کے سرگرم اراکین، انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن، پاکستانی حزب مخالف کی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف پاکستان سمیت سیاسی پارٹیوں کے رہنما، شمالی امریکہ میں بسنے والے سندھیوں کی تین تنظمیں، وکلاء، کاروباری افراد و مزدور پیشہ پاکستانی مرد و خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد پاکستانی تارکین وطن کے ایسے مشرف مخالف اور چیف جسٹس کی حمایت، یا ’جمہوریت نواز‘ مظاہروں میں شامل ہورہی ہے۔

 نیویارک میں پاکستانیوں کی ہائی اسکول جاتی ہوئي نسل کے کچھ نوجوانوں نے ریلیوں میں انگریزی میں لگتے مشہور نعرے’گو مشرف گو‘ میں دلچسپ حیرت کا پہلو یہ نکالا کہ سادہ امریکی انگریزی میں تو ’گو مشرف گو‘ کا مطلب ہوگا ’ کیری آن مشرف!‘ یعنی کہ’مشرف! لگے رہو(جو کچھ کر رہے ہو ٹھیک کر رہے ہو!)‘

امریکی میڈیا اور پاکستانی معااملات میں دلچسپی رکھنے والے امریکیوں کے حلقے پاکستان اور پاکستان سے باہر ایسے مظاہروں کو نہایت گہری نظر اور دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک امریکی شہری کا کہنا تھا’پاکستان میں وکلاء اور حزب مخالف کی یہ مشرف مخالف تحریک کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں کوئی امریکہ یا امریکی پالیسی کا ذکر نہیں اور اپنے جوہر میں یہ تحریک پاپولر اور سیکولر ہے‘۔

وہ پاکستانی امریکی جو انیس سو ساٹھ میں پاکستان میں ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم تھے یا اس کے چشم دید گواہ ہیں کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے خلاف وکلاء کی تحریک انہیں انیس سو اڑسٹھ میں پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کی یاد دلاتی ہے۔

جبکہ انیس سو اڑسٹھ کی اس نسل کے پیپلز پارٹی اور دوسری بائيں بازو سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بارہ مئي کو کراچی یا اس سے قبل لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں کا جوش و خروش بھی انیس سو ساٹھ کی دہائی والے بھٹو کے جیالوں جیسا تھا۔

گزشتہ تین ہفتوں میں دو سے زیادہ دفعہ نیویارک اور واشنگٹن میں مشرف مخالف مظاہرے ہو چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ سمینارز بھی منعقد ہو رہے ہیں۔ فطری طور پر، ان مشرف مخالف مظاہروں کا ایک نشانہ ایم کیو ایم بھی ہے جسے یہ مظاہرین بارہ مئي کو کراچی میں تشدد کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

 گزشتہ پون عشرے میں تارک وطن پاکستانیوں کو کسی بھی پاکستانی حکومت یا حکمران پر اتنا برہم نہیں دیکھا گیا جتنے امریکہ میں پاکستانی آج کل فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت اور حکومتی حلیف پارٹیوں پر ہیں۔
حسن مجتبٰی

امریکی قوانین میں غیر ملکی تارکین وطن یا ایسے امریکی شہریوں کی جانب سے ان کے ممالک کی شخصیات پر مقدمے قائم کرنا نئی بات نہیں۔ اس سے قبل ایک کرد جوڑے نے سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف سان ڈیاگو (کیلیفورنیا) کی وفاقی عدالت میں کردوں کے قتل عام کے لیے ہرجانے کا مقدمہ قائم کیا تھا۔ یہ کلاس ایکشن مقدمہ امریکی قانون فارین ٹورٹز لاء کے تحت قائم کیا گیا تھا۔

چاہے ان مشرف مخالف مظاہروں اور ماضی کی حکومت مخالف مظاہروں میں مماثلت کتنی بھی ہو لیکن پاکستان اور پاکستان سے باہر جو جدت اور تخلیقی سرگرمی حالیہ ریلیوں میں ہے وہ انکے نعرے ہیں۔

مثلاً ’اے وطن کے سجیلے جنریلو! یہ رقبے تمہارے لیے ہیں‘، یا ’فوج گھٹاؤ ملک سنوارو‘ اور اب شاید حال ہی پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں کے آرمی چیف اور باوردی صدرمشرف پر اعتماد والے مبینہ بیان کے بعد ان نعروں کا فوکس مشرف کے ساتھ ایک دفعہ فوج بھی ہو۔

لیکن نیویارک میں پاکستانیوں کی ہائی اسکول جاتی ہوئي نسل کے کچھ نوجوانوں نے ریلیوں میں انگریزی میں لگتے مشہور نعرے’گو مشرف گو‘ میں دلچسپ حیرت کا پہلو یہ نکالا کہ سادہ امریکی انگریزی میں تو ’گو مشرف گو‘ کا مطلب ہوگا ’ کیری آن مشرف!‘ یعنی کہ' مشرف! لگے رہو(جو کچھ کر رہے ہو ٹھیک کر رہے ہو!)‘

دوسری طرف ، پاکستان میں حالیہ عدالتی بحران کے اور انسانی حقوق کے تناظر میں جنرل مشرف کے خلاف ایک بین الاقوامی عدالت منعقد کی جا رہی ہے جس میں عالمی شہرت کے حامل امریکی قانون دان اور انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن بھی شرکت کریں گے۔ کونی آئي لینڈ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر احسان اللہ بوبی کے خیال میں یہ عوامی عدالت عراق جنگ پر صدر بش کے خلاف سابق اٹارنی جنرل رامسے کلارک کی بلائي جانیوالی عدالت کی طرز پر ہوگی۔

اسی بارے میں
’مشرف امریکہ کی ضرورت‘
04 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد