BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 July, 2007, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسداد دہشتگردی بِل کی منظوری
انسداد دہشتگردی پر رپورٹ
9/11 کمیشن کی رپورٹ سے خفیہ اداروں میں کھلبلی مچ گئی تھی
امریکی کانگریس نے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کی تحقیق کرنے والے کمیشن کی تجویز کردہ اکثر سفارشات پر مبنی انسداد دہشتگردی بِل کی منظور دے دی ہے۔

ان سفارشات کی نشاندہی کمیشن نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی حتمی رپورٹ میں کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس بل کے تحت جس پر صدر بش بل دستخط کریں گے، دہشت گردی حملوں سے بچاؤ کے لیے جتنی رقم مختص کی گئی ہے اس کا ایک بڑا حصہ ان شہروں کو دیا جائے گا جہاں ممکنہ دہشت گرد حملوں کا خطرہ زیادہ ہے۔ اس بل کے تحت حکام مسافر طیاروں کے سفری سامان اور مال بردار جہازوں پر موجود کنٹینرز کی سکریننگ بھی کرسکیں گے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین نے اس سال کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے ہی اس بل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیا تھا۔

صدر بش کے دستخط کے بعد اس بل کی مدد سے ڈیموکریٹک پارٹی گزشتہ سال نومبر میں انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے اپنے چھ بڑے وعدوں میں سے تین کو پورا کر سکے گی۔

ایوان نمائندگان نے جمعہ کو ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کردہ اس بل کی 40 کے مقابلے میں 371 ووٹوں کی اکثریت سے منظوری دی۔ اس سے قبل سینیٹ میں آٹھ کے مقابلے میں 85 ووٹوں سے اس کی منظوری دے جا چکی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت داخلی سکیورٹی کی مد میں کثیر رقم مختص کی جائے گی یعنی چار سال کے دوران نقل و حمل سےمتعلق سکیورٹی کی مد میں چار بلین ڈالر، ایک سال میں ائر پورٹ سکیورٹی کے لیے سات سو پچاس ملین ڈالر اور مختلف ریاستوں اور دہشت گرد حملوں کے انتہائی خطرے کی زد میں آنے والے شہروں کو اگلے سال ایک اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر کی رقم ملے گی جس کی سفارش 11/9 کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے کی تھی۔ وہ ریاستیں جنہیں کسی دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر انتہائی درجے پر نہیں رکھا گیا ہے انہیں داخلی سکیورٹی کی مد میں نصف گرانٹ دی جائے گی۔

اس بل کے تحت حکام تین سال کے اندر مسافر بردار طیاروں کے سفری سامان اور پانچ سال کے اندر جوہری آلات کی جانچ کے لیے غیر ملکی بندرگاہوں کو چھوڑنے سے قبل تمام بحری جہازوں پر لدے کنٹینرز کی کی جانچ پڑتال شروع کردیں گے۔

ایوان نمائندگان کی سپیکر نیسنی پلوسی کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک قیادت نے
9/11 کے حملوں کی تحقیق کرنے والے خود مختار اور آزاد کمیشن کی سفارشات کو کانگریس سے منظور کروا کر ان حملوں کا نشانہ بننے والے خاندانوں سے کیے اپنے وعدے کو پورا کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ہم نے 11/9 کمیشن کے کام کو قبول کیا ہے اور امریکی عوام کو کہیں زیادہ تحفظ فراہم کیا ہے۔‘

اس بل کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بل کے بارے میں اس کے تاحال کچھ تحفظات ہیں تاہم صدر بش اس بل پر دستخط کردیں گے۔

امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے نیشنل کمیشن یا 11/9 کمیشن نے تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد کی گواہیوں اور کئی خفیہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد 2004 میں اپنی حتمی رپورٹ 2004 شائع کردی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت عوام کو ان حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں
امریکہ، دہشت گردی کا خوف
17 February, 2005 | آس پاس
گیارہ ستمبر کا سوگ
11.09.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد