بُش: عراق سے واپسی کا ِبل ویٹو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اس بِل کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت عراق میں جنگی کارروائی کے لیے رقم کو افغانستان اور عراق سے فوج کی واپسی کے نظام الاوقات سےمشروط کیا گیا تھا۔ یہ بِل صدر کو کانگریس نے بھیجا تھا۔ کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے ذریعے عراق اور افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کو ایک حقیقت بنانا چاہتے تھے۔ تاہم صدر بش نے واشنگٹن میں اس بل کے ویٹو پر دستخط کرنے کے بعد کہا ہے کہ ’عراق سے واپسی کے لیے تاریخ مقرر کرنا عراق میں ناکامی کی تاریخ مقرر کرنے‘ کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے اس مجوزہ قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سیاستدانوں کے آراء کو فوجی کمانڈروں کی رائے پر ترجیح دی گئی تھی اور اس میں زمینی حقائق پر بالکل غور نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی ٹیلی وژن پر خطاب میں صدر بش نے کہا کہ اس بل سے دشمن کے حوصلے بلند ہوتے اور عراقی عوام کو مایوسی کا سامنا ہوتا۔ عراق جنگ کے معاملے میں صدر بش اور کانگریس کے درمیان سخت اختلافات ہیں اور یہ ویٹو اس سلسلے کا تازہ واقعہ ہے۔ سینیٹ میں 46 کے مقابلے میں 51 ووٹ سے اس مجوزہ قاننون کو منظور کیا گیا تھا۔ اس بل کے تحت عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل یکم اکتوبر سے شروع ہو کر اکتیس مارچ سنہ 2008 تک مکمل کوجانا تھا۔ یہ بل صدر بش کو اس دن کے پورے چار سال بعد بھیجا گیا ہے جس دن انہوں نے اعلان کیا تھا کہ عراق میں بڑی جنگی کارروائی ختم ہو چکی ہے۔ سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے رہنما سنیٹر ہیری ریڈ نے صدر بش سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ انہوں نے امریکی افواج کو عراقی خانہ جنگی کے درمیان ڈال دیا ہے اور اب اس حکمت عملی کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں صدر بنی تو فوج واپس آئےگی:ہیلری27 April, 2007 | آس پاس عراق:’امریکی عوام کا اعتماد اٹھ چکا‘ 14 February, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج کا اعلان آج متوقع 10 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||