صدر بنی تو فوج واپس آئےگی:ہیلری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارت کے تمام ڈیموکریٹ امیدواروں نے صدر بش کی عراق پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سینیٹر ہیلری کلنٹن اور سینیٹر بارک اوبامہ سمیت یہ تمام آٹھ متوقع امیدوار نومبر 2008 کے انتخابات کے حوالے سے ٹیلیویژن پر دکھائی جانے والی پہلی بحث میں شریک تھے۔ بحث میں شامل تمام مقررین نےصدر بش پر زور دیا کہ وہ عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے ٹائم ٹیبل کے بل کو ویٹو نہ کریں۔ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا ’اگر یہ صدر ہمیں عراق سے واپس نہیں لا سکتے تو جب میں صدر بنوں گی تو یہ کام کروں گی‘۔ انہوں نے کہا’ ہم نے عراقی عوام کو آزادی کا موقع فراہم کیا اور اب یہ ان پر ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یا نہیں‘۔ سینیٹر بارک اوبامہ نے کہا’ ہم جنگ کے خاتمے سے صرف ایک دستخط دور ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام چاہے وہ ڈیموکریٹ ہوں یا ری پبلکن جنگ کے خاتمے کے حق میں ہیں۔ سینیٹر اوبامہ نے اس امر پر بھی فخر کا اظہار کیا کہ وہ ابتداء سے ہی اس جنگ کے مخالف رہے ہیں جبکہ سنہ 2003 میں اس جنگ کی حمایت کرنے والی ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت کی معلومات کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ تھا اور جو وہ آج جانتی ہیں اگر وہ اب فیصلہ کرتیں تو یقیناً وہ مختلف ہوتا۔ ایک اور ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر جان ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ جس نے بھی عراق میں فوج کشی کی حمایت کی ہے اسے ایک بار اپنے ضمیر کی آواز ضرور سننی چاہیے۔ یاد رہے کہ جان ایڈورڈز نے خود فوج کشی کی حمایت کی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس عمل پر معافی مانگ لی تھی۔ بی بی سی کے جسٹن ویب کے مطابق جان ایڈورڈ نے اپنی تقریر میں عراق جنگ پر ڈیمو کریٹس کے مؤقف کو کھل کر بیان کیا اور کہا کہ امریکہ کو درپیش خطرات میں کمی صرف اس وقت لائی جا سکتی ہے جب دنیا امریکہ کو ایک بار پھر اچھائی کا حمایتی تصور کرنے لگے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||