سندھ کے لئے تشدد اور آفات کا سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال کا دوسرا ہی مہینہ سرحد پار سے بری خبر لیکر آیا جب فروری میں بھارت کے شہر پانی پت کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا جس میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ اس ٹرین کے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد کراچی کے رہائشی لوگوں کی تھی۔ ماہ مارچ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی نے سندھ میں سیاست اور وکلا تحریک کی ایک نئی تاریخ رقم کی اور پہلی مرتبہ عدلیہ کی آزادی کی بھرپور تحریک اٹھی۔ بارہ مئی کو جسٹس افتخار محمد چودھری جب سندھ ہائی کورٹ بار کو خطاب کرنے کے لیے کراچی پہنچے تو شہر میں فسادات پھوٹ پڑے جو تین روز تک جاری رہے جس میں چالیس کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے۔ چیف جسٹس کو وکلا رہنماوں سمیت ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا اور وہ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے نہیں آسکے۔
ایک ہفتے تک جاری کشیدگی نے شہر کو ایک مرتبہ پھر نسلی کشیدگی کی طرف دھکیل دیا جس کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ حکومت نے اس واقعے کی کوئی تحقیقات نہیں کرائی اور جب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے اس کا از خود نوٹس لیا تو ان کی معذولی کے بعد یہ معاملا تاحال زیرسماعت ہے۔ بارہ مئی واقعے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران کے لیے صوبہ سندھ نو گو ایریا بنادیا گیا۔ ان کی آمد پر دو مرتبہ پابندی عائد کی گئی ۔ ایسے اقدامات اس سے قبل محرم الحرام میں اٹھائے جاتے تھے جس میں علما اور ذاکرین کو دوسرے صوبہ یا شہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ گرمی کے موسم میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چھ ماہ تک بجلی کا شدید بحران رہا، طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاج کیا ہے جبکہ کارخانے اور گھریلوصنعت کو سب سے زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ماہ جون میں ہی برسنے والی باران رحمت کراچی سمیت سندھ کے لیے باعث زحمت ثابت ہوئی۔ طوفانی بارش کے دوران کراچی میں بڑی تعداد میں سائن بورڈ اور بجلی کے پول گرنے کے باعث 70 سے زائد افراد کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جبکہ اندرون سندھ میں دادو، قمبر شھداد کوٹ میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے جو کئی ماہ تک کیمپوں میں بے آس و مددگار پڑے رہے۔
بارش کے بعد کراچی میں شہری اداروں کی اہلیت پر ابھی تنقید جاری ہی تھی کہ یکم ستمبر کو کراچی میں ناردرن بائی پاس پل کا ایک حصہ منہدم ہو نے سے چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ صدر پرویز مشرف نے اگست میں شیرشاہ میں بھاری ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بنائے جانے والے اس بائی پاس پل کا افتتاح کیا تھا، فوج کے انجنیئرنگ شعبے نے اس پل کی تعمیر کی تھی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس پل کے گرنے کی وجہ تاحال نہیں جان سکی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ بھی کئی درد ناک داستانیں چھوڑ گیا ہے۔ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قافلے میں بم دھماکوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس بم دھماکے میں ایک سو تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور معاملہ ابھی تک معمہ بناہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد صوبائی حکومت نے تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا جو ابھی تک کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ سال کی طرح رواں سال میں بھی ڈینگی فیور نے لوگوں کو ڈرائے رکھا، مگر شہری حکومت کی جانب سے آگاہی مہم اور جراثیم کش اسپرے کی وجہ سے صورتحال قدرے بہتر رہی۔ اس کے باوجود سات سو سے زائد افراد کو ہسپتال جانا پڑا۔ تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف کراچی سمیت سندھ بھر میں وکلا کا شدید رد عمل اور احتجاج دیکھا گیا۔ اس دوران سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد سمیت نو ججوں کو محصور کردیا گیا۔ ہائی کورٹ بار سے احتجاجی جلوس نکالنے والے وکلاء کو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے گرفتار کرلیا۔ یہ وکلا رہنما ایم پی او کے تحت دس سے پندرہ روز تک جیل میں قید رہے۔ ایمرجنسی کے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ جس دوران بازارِ حصص میں شدید مندی کا سامنا رہا اور کراچی اسٹاک ایکسچینج نے مندی کا ایک نیا رکارڈ قائم کیا۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے کچھ گھنٹے پہلے ہی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی صحافیوں نے احتجاج کیا۔ بیس نومبر کو روز گورنر ہاؤس جانے والے صحافیوں کے جلوس پر پولیس نے ڈنڈے برسائے جس میں کئی صحافی زخمی ہوگئے اور پولیس نے ایک سو اکیاسی صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا، جن میں خواتین بھی شامل تھیں جس کی پوری دنیا کی صحافی برادری نے مذمت کی۔ گزشتہ ڈیڑھ سے دوسال تک لاپتہ قوم پرست کارکن آصف بالادی، سلیم بلوچ، جی ایم بھگت، چیتن بجیر اور صفدر سرکی رواں سال ظاہر کیے گئے اور سب پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔ جاتے جاتے بھی یہ سال آٹے کا بحران دے گیا، آٹا بائیس سے چھبیس روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔ اور اب سال کا اختتام بھی سیاسی کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||